اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 427

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۲۷ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء کرنے کی صلاحیت رکھے گی ورنہ اگر نفس کے تفاخر میں مبتلا ہوکر ، خاندانی تفاخر میں یا معاشرتی تفاخر میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کو طعنے دیں گی ایک دوسرے کو نیچا دکھا ئیں گی تو یہ چیزیں آپ کے نقصان کا موجب ہیں۔پردے کے فائدے کا موجب بہر حال نہیں بن سکتیں۔پس قرآن کریم کے حوالے سے میں بعض اور آیتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولى کہ زیادہ اپنے گھروں میں رہا کرو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کام کی غرض سے باہر نہ نکلو۔باہر نہ نکلنے کا مضمون ایک اور جگہ ایک سزا کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے۔یہاں ہرگز وہ مراد نہیں ہے مراد یہ ہے کہ بے ضرورت باہر نکلنے کا شیوہ اختیار نہ کرو۔یہ اچھا نہیں ہے گھر میں بہت سے تمہارے کام پڑے ہوتے ہیں گھروں کو صاف ستھرا پاکیزہ بناؤ۔کشش کا موجب بناؤ تمہارے بچے بھی گھر آکے تسکین حاصل کریں، تمہارے بڑے بھی تو اپنے وقت کو اس طرح بے وجہ بکھیر کر ضائع نہ کرو بلکہ کارآمد مقاصد میں استعمال کرو۔یہ مراد ہے۔وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ اور جاہلیت کے انداز کے سنگھار پٹارا ختیار نہ کرو کیونکہ وہ جاہلیت کے جو سنگھار تھے وہ غیروں کو دعوت دینے والے ہوا کرتے تھے اپنوں کی نظر کی تسکین کے لئے نہیں ہوا کرتے تھے اور اس کے بدلے کیا کرو۔وَاَقِمْنَ الصَّلوةَ وَاتِينَ الزَّكُوةَ وَاَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ (الاحزاب : ۳۴) تمہاری تسکین اس بات میں ہے کہ نمازوں کو قائم کرو اور زکوۃ دوغریبوں کی ہمدردی میں خرچ کرو، اللہ کی خاطر مذہبی مقاصد پر خرچ کرو۔وَاَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اب اس تعلق میں اچا نک نماز کے قائم کرنے کا بیان فرمایا ہے دراصل وہ عورتیں جن کو باہر پھرنے کی عادتیں پڑ جائیں نہ اُن کی نمازوں کے کوئی اوقات باقی رہتے ہیں، نہ وہ اپنے بچوں کی نمازوں کی نگرانی کر سکتی ہیں، نہ اُن کو نیک نصیحت کر سکتی ہیں۔آپ دیکھ لیں بے شک اُن عورتوں کی مثالیں آپ کے سامنے ہوں گی آپ کے دائیں بائیں ہوں گی جن کا شیوہ ہی یہ ہو کہ گھر سے نکلیں اور باہر سیر سپاٹا کریں یا شاپنگ کریں۔شاپنگ اچھی چیز ہے کوئی حرج نہیں مگر شا پنگ روز مرہ کی ضرورت نہ رہے بلکہ ایک زندگی کا مقصد بن جائے۔یہ وہ چیزیں ہیں جس سے باہر نکلنے کی عادتیں پڑی ہیں اور جو احمدی ہیں ان بیچاریوں کی تو حد دوڑ جو ہے وہ شاپنگ تک ہی ہوتی ہے جو غیر احمدی ہیں وہ پھر