اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 428

حضرت خلیفتہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۲۸ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء کلبوں میں جانے لگتی ہیں اور جو غیر احمدیوں کے اثر کے نیچے ہیں وہ اس قسم کے شیوے اختیار کر لیتی ہیں۔بیرونی زندگی ہے بہانہ یہ ہے کہ فلاں سوسائٹی کے ہم ممبر ہیں، فلاں سوسائٹی میں حصہ لے رہی ہیں مگر گھر کے لئے وقت ہی نہیں رہتا نتیجہ وہ گھر ویران ہو جاتا ہے۔اس میں گھر والے دوسرے افراد کو دلچسپی نہیں رہتی اور ایک بڑا مقصد گھر کے ساتھ عورت کا تعلق باندھنے میں قیام نماز ہے آئندہ نسلوں کو اگر احمدی خواتین نمازوں پر قائم کر دیں تو ایک بہت بڑا احسان ہے اور قیام جنت کا سب سے اول ذریعہ یہی ہے لیکن وہ عورتیں جو زیادہ گھروں سے باہر دوڑی پھرتی ہیں اُن کو گھروں میں نماز قائم کرنے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔یہ میرا تجربہ ہے اور میں وسیع نظر رکھنے کے بعد آپ کو یہ بات بتا رہا ہوں۔نام لئے بغیر کہ ایسی عورتیں جب خود نمازیں پڑھتی ہیں تو اکثر ٹکریں مارنے والی نماز میں ہوتی ہیں کیونکہ ان کو دو مصروفیتوں کے درمیان وقت ہی پورانہیں ملتا اور جلدی سے گلے سے اتاری کہ اچھا جی اب نماز پڑھ لی چلو باہر چلیں اور اپنے بچوں کو پنجوقتہ نماز کی عادت ڈالنی تبھی ممکن ہے اگر گھر میں عورت گھر کی مالکہ بن کے رہے اس کے تمام معاملات اس کے کنٹرول میں ہوں اس کی نظر کے سامنے سب چیزیں چل رہی ہوں اپنے بچوں کو صبح بھی نماز پہ اٹھائے ، رات کو بھی نماز کی توجہ دلائے اور پھر صبح خود نماز پر اُٹھنے کی عادی ہو۔یہ گھریلو زندگی کے طبعی پھل ہیں جن کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔بیرونی زندگی اگر ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو راتیں دیر تک ضائع ہو جاتی ہیں۔رات گئے تک انسان ایسی مصروفیتوں میں پڑا رہتا ہے کہ اکثر ایسی عورتوں کے لئے صبح نماز پہ اٹھنے کی توفیق ہی نہیں ملتی ، ہمت ہی نہیں ان میں رہتی اور وہ ساری عورتیں پھر اگر صبح بیکار ہوں تو ان کا دن صبح ساڑھے دس سے گیارہ بجے شروع ہوتا ہے۔اُٹھ کر وہ ناشتہ کرتی ہیں اور پھر تھوڑا سا وقت جو باقی رہتا اس میں اگر وہ کھانا انہوں نے خود پکانا ہے تو پکایا اور لگا کر پھر آپ باہر چلیں گئیں۔پھر شام کی مصروفیت پھر رات کی مصروفیت گویا ایک چکر ہے بد چکر جس میں مبتلا ہو کر ان کو تسکین نہیں ملتی اس لئے زندگی بظاہر ایک دلچسپ اور دیدہ زیب ہے لیکن آپ اس کا تجزیہ کر کے دیکھیں ہر وقت کی بے چینی ہے۔ہر وقت کی مصیبت ہے اسلام تسکین پیدا کرنا چاہتا ہے، قرار بخشنا چاہتا ہے تحریک کر کے آپ کو بے وجہ متموج نہیں کرنا چاہتا کہ ہر وقت ایک ہنگامہ برپا ہو اور اس کا ماحصل کیا ہو؟ سارے دن کے آخر پر اپنا حساب کتاب کرنے بیٹھیں تو جیسی بے چینی لے کر دن شروع کیا تھا وہی بے چینی آخر پر اسی طرح رہی۔باہر بہت نکلنا ، بہت زیادہ مجالس میں اس طرح بیٹھنا عورت کے لئے اور بھی مشکلات