اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 426 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 426

حضرت خلیفہ مسح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۴۲۶ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء تربیت کی جائے۔مگر اگر معاشرے میں روز مرہ کے تعلقات میں یہ لوگ حد سے تجاوز کرنے لگیں اور بے پردگی بلکہ بے حیائی کے طریق اختیار کرتے ہوئے احمدی شادیوں میں احمدی بیا ہوں میں حصہ لیں تو یہ چیز نقصان دہ ہے ان کی تربیت وہاں نہیں ہوگی جو معصوم بچیاں ہیں ان کی تربیت پر بداثر پڑنے کا احتمال زیادہ ہے اس لئے ملاقات والا مضمون بالکل مختلف ہے اور اپنے روز مرہ کی بیاہ شادی یا دوسری سوشل رسموں میں ان کی کھلی چھٹی دے دینا کہ جس طرح چاہیں دندناتی پھریں یہ مناسب نہیں ہے وہاں آپ لوگوں کو اب احتیاط کرنی چاہئے۔کچھ ان کے اور اپنے درمیان ایک پردے ڈالنے چاہئیں۔ان سے کہو کہ بیبیو! تم آؤ بے شک سر آنکھوں پر لیکن اس طرح نہ آؤ کہ ہماری بچیوں پر برا اثر پڑے اپنے آپ کو سنبھال کر چلو۔تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو سوشل دباؤ ہے یہ بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے مگر اصل تو قع تو دعا پر ہے اور دلوں کی پاک تبدیلی پر ہے۔پردہ جہاں تک اسلامی روح کا تعلق ہے بظاہر قائم کیا جاسکتا ہے مگر بالباطن قائم کرنا ایک اور بات ہے۔اسلامی روح کا جہاں تک تعلق ہے جب تک دل میں نہ قائم ہواس وقت تک ظاہری پردہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور یہ بھی غلط ہے کہ ایک انسان ایک پردہ کرنے والی خاتون کو یہ طعنے دے کہ جی چھوڑو پردے ! پردے کے پیچھے جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی ہمیں پتہ ہے اس لئے ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔یہ بھی جھوٹ ہے، ایک نفس کی انانیت ہے، ایک قسم کا تکبر ہے اور دراصل اس عورت کی نہیں بلکہ اسلام کے پردے کی تحقیر ہے جو کچھ پیچھے ہوتا ہے اس کا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں اس کا خدا سے تعلق ہے تم جو دکھائی دیتی ہو اس سے پرے بھی اور باتیں ہیں جو دکھائی نہیں دیتیں جن کو خود تم نے روک کے رکھا ہوا ہے کسی عورت کو حق نہیں کہ وہ کہے کہ اچھا پھر بے پردگی تو اتنی رہی اس سے پیچھے جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی ہمیں پتہ ہے یہ تو پھر آپس میں لڑائیاں شروع ہو جائیں گی۔یہ گھٹیا کمینی باتیں میں جماعت کے معاشرے میں اس قسم کے طعن و تشنیع کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔یہ تربیت کا ذریعہ نہیں ہیں یہ نفرتیں پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔یہ اختلافات کو بڑھانے کا موجب ہیں تربیت کے لئے پاک روح کی ضرورت ہے۔قلبی محبت کی ضرورت ہے، اللہ سے تعلق کی ضرورت ہے جو بات کہیں خدا کی خاطر کہیں اور خدا کی خاطر کہیں تو لازماً سلیقے اور وقار کے ساتھ کہیں کیونکہ اللہ کے حوالے سے اس کی خاطر جو بات کی جاتی ہے اس میں کمینگی نہیں آسکتی۔پھر آپ کی نصیحت میں وقار پیدا ہوگا پھر آپ کی نصیحت طعن و تشنیع کا رنگ اختیار کر ہی نہیں سکتی۔گہرا در داس میں پیدا ہوگا، گہری ہمدردی پیدا ہوگی اور وہ زیادہ تبدیلیاں پیدا