اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 414

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۱۴ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء رجحانات سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔ایک عورت بچپن ہی سے مثلاً اس مزاج کی ہے کہ اس کو ادھر ادھر جھانکنے کی عادت ہی نہیں وہ اپنے میں صرف مصروف اپنے آپ میں ڈوبی ہوئی ایک ایسا کردار پیش کرتی ہے۔شروع ہی سے بعض بچیاں میں نے دیکھی ہیں شروع ہی سے اس کردار کی ہوتی ہیں جن کو قرآن کریم المُحْصَنَتِ الْخَفِلت (النور: ۲۴) قرار دیتا ہے۔یہ غافل عورتیں ہیں ان کو کچھ بھی پرواہ نہیں گردو پیش کی ، ان کا پردہ ڈھیلا ہو یا سخت ہو کسی کو کوئی دعوت نہیں دیتا۔وہ اپنے من میں ڈوبی ہوئی عورتیں ہیں اور آزاد ہیں اس بات سے کہ دنیا انہیں کیا دیکھ رہی ہے اور کیا نہیں دیکھ رہی۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ایسی عورتوں پر الزام لگاتا ہے وہ سب سے مکروہ جرم کرتا ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دے گا۔پس ایک غافلات کی دنیا ہے یہ ایک اور ہی دنیا ہے جو جاری وساری تمدن مقامی تمدن اور مقامی روایات سے الگ ایک عالمی دنیا ہے جس سے وہ تعلق رکھتی ہیں۔پھر بعض خواتین ہیں جو بچپن سے ہی عادی ہیں کہ کچھ ان کی طرف توجہ دی جائے اور چھوٹی بچیاں بھی ہوں تو ان کا سنگھار پٹار بتاتا ہے کہ ان کو چین نہیں آئے گا جب تک لوگ ان کو دیکھیں نہ اور اس وجہ سے وہ شروع ہی سے اپنے حسن کو ابھار کر اور نکھار کر پیش کرنے کی عادت اختیار کر لیتی ہیں جب وہ اپنے بال تراشتی ہیں تو نظر آجاتا ہے کہ کس کی خاطر تراشے جارہے ہیں جب وہ اپنا حلیہ بناتی ہیں جو بھی بنا ئیں تو یہ بحث نہیں ہے کہ لپسٹک (Lipstick) جائز ہے یا نا جائز ہے۔جائز ہے مگر بنانے والے ہاتھ ، لپسٹک لگانے والے ہاتھ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ لپسٹک جائز ہے یا نا جائز ہے، بعض خواتین طبعی طور پر اپنے آپ کو اچھا دکھانا چاہتی ہیں مرد بھی یہی چاہتے ہیں۔مگر اچھا دکھانا کسی حد تک اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنا انسانی فطرت ہے، اپنے رنگ پر تھوڑا سا غازہ مل لینا کوئی گناہ نہیں ، ہونٹوں پر طبیعی خون کی سرخی نہ ہو تو کچھ لگا دینا کوئی حرج نہیں لیکن اگر اس سے بڑھ کر دعوت عام کے طور پر اسے استعمال کیا جائے ، اس نیت سے کیا جائے تو پھر یہی حرکت گناہ کی حدوں میں داخل ہو جاتی ہے اور قرآن کریم نے اسی پہلو سے اس پردے کے مضمون کو کھولا ہے کہ تم اپنے آپ کو سنبھال کر رکھو، اپنی عزت کا خیال کرو، ہم نہیں چاہتے کہ تمہیں غیروں سے گزند پہنچے، ہم نہیں چاہتے کہ تم سوسائٹی میں عیش و عشرت کے کھلونے بن جاؤ تمہاری عزت اور وقار کے قیام کی خاطر ہم تمہیں پردے کی تعلیم دیتے ہیں۔پس عورت کا وقار اور عورت کی عزت اسلام کی پردے کی تعلیم سے وابستہ ہے جہاں جہاں اسے نظر انداز کریں گے وہیں وہیں بدی کے پھل لگنے شروع ہو جائیں گے اور ضرورت نہیں کہ جنت سے