اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 415
حضرت خلیفہ امسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۱۵ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء سب کے سب پہلے نکالے جائیں تو پھر بد درختوں میں جائیں گے قرآن کریم نے جس جنت کا نقشہ کھینچا ہے وہاں بد درخت موجود ہیں اور ترجمہ کرنے والے اور تفسیر کرنے والے یہ غور نہیں کرتے اگر وہ جنت کچھ اور تھی جیسی مرنے کے بعد نصیب ہوگی تو وہاں کے پھل کیا کام کر رہے تھے۔وہاں اُن کا وجود کیا حیثیت رکھتا تھا کس طرح خدا نے اس پاک جنت میں ناپاک ناجائز پھلوں کو اگنے کی اجازت دی۔پس در اصل جنت وہ معاشرہ ہے جو ایک نبی تعمیر کرتا ہے اس معاشرے میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں کچھ بد درختوں کی مثال کچھ نیک درختوں کی مثال اور معاشرے کو عمومی طور پر یہ تعلیم ہے کہ نیک درختوں سے تعلق قائم کرو اور بددرختوں سے تعلق کاٹ رکھو اگر ایسا نہیں کرو گے تو بدیاں آخر تم پر غالب آجائیں گی اور تمہاری جنت کی حیثیت بدل جائے گی یہاں تک کہ پھر آسمان سے آوازیں آئیں گی کہ جنت سے نکل جاؤ، اب تمہارا اس جنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس پہلو سے پردے کو سمجھیں کوئی سختی کا حکم نہیں ہے بلکہ ایک نیک مشورہ ہے، ایک نصیحت ہے، اگر اسے سمجھیں اور سنیں اور اس کی روح کو قائم کریں تو آپ کا بھی فائدہ ہے اور جماعت کا بھی فائدہ ہے، اسلام کا فائدہ ہے۔تمام عالم میں ایک ہی روح کی علمبر دار عورتیں آئندہ زمانوں کے لئے جنت پیدا کر جائیں گی اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ جنت ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رہے گی مگر ابھی سے جو ر نے پیدا ہورہے ہیں ابھی سے جو چیلنجز اُٹھ رہے ہیں اُن کے مقابلے کے لئے سارے مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔وہ آیات جن کی آپ کے سامنے تلاوت کی گئی ہے اس میں بہت سے مضامین بیان ہوئے ہیں۔اس کا ترجمہ آپ سن چکی ہیں اگر تفصیل سے ان آیات کی تفسیر کی جائے تو باقی مضامین ممکن ہے اس تھوڑے سے وقت میں بیان ہی نہ کئے جاسکیں اس لئے چونکہ پہلے میں ان آیات پر روشنی ڈال چکا ہوں یعنی آیات جو روشنی مجھ پر ڈالتی ہیں اس میں میں آپ کو بھی شریک کر چکا ہوں اس لئے میں چند دوسری آیات جو بعض دوسرے پہلوؤں کا ذکر کرتی ہیں وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ الَّتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِجُتٍ بِزِينَةِ وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (النور: ۶۱)