اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 413

حضرت خلیلہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۱۳ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنت کی تعمیر کے مضمون پر غور کریں۔اگر یہ پہلو غلط استعمال ہو تو پھر وہی جنت جہنم بن جاتی ہے تسکین کی بجائے بے چینی کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔طمانیت کی بجائے ایک Excitement ایک طبیعت میں ہر وقت کا ہیجان پیدا ہوتا ہے اور پیاسیں بڑھتی رہتی ہیں اُن کی تسکین کے کوئی سامان نہیں ہوتے اور ہر طرف بکھر جاتی ہیں پیاسیں۔ہر انسان تسکین کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر طرف سے بالآخر اس کو وہ سراب دکھائی دیتا ہے جیسے ایک پیاسا پانی کی تلاش میں سراب کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے لیکن جب پہنچتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا سوائے اس کے خدا اُس کی اس عبث اور بے کار کوشش کا بدلہ اسے دینے کے لئے وہاں تیار ہو۔پس مضمون کو سمجھیں یہ دیکھیں کہ عورت نے جنت کو دوبارہ دینا ہے دنیا کو، یہ دیکھیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی لونڈیاں ہی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی غلام عورتیں ہیں انہوں نے ہی اس جنت کی پھر تعمیر کرنی اور پردے کا اس سے بہت گہرا تعلق ہے یعنی پردے کے مضمون کا، پردے کی روح کا۔اگر آپ اس پر قائم رہیں تو آپ کے گھر تسکین سے بھر جائیں گے اور جو پاک نمونے آپ دنیا پر چھوڑیں گی، جو اثرات دنیا پر مرتب کریں گی وہ اثرات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئی جنت کی تعمیر شروع کریں گے اور ایک نئے معاشرے کی بنیاد ڈالیں گے۔یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کی خاطر ہم بار بار آپ سے مخاطب ہوتے ہیں ، یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کے حصول کے لئے میں چاہتا ہوں کہ تمام دنیا کی جماعتیں یکساں کوشش کریں، خواہ وہ انگریز احمدی عورتیں ہوں یا امریکن احمدی عورتیں ہوں، کالی ہوں یا گوری ہوں، افریقہ کی ہوں یا چین اور جاپان سے تعلق رکھتی ہوں یا ہندوستان یا بنگلہ دیش سے، وہ ایک ہی امت ہیں یا درکھیں اس لئے پردے کی روح یکساں سب میں ہونی چاہئے یہ درست نہیں ہے کہ انڈونیشیا کا پردہ اور ہے اور عرب کا پردہ اور ہے اور بنگال کا پردہ اور ہے اور ہندوستان اور پاکستان کے پر دے اور ہیں اور اگر ہیں تو محض اس حد تک اور رہنے کی اجازت ہے جس حد تک یہ اسلامی روح کو مختلف رنگ میں پیش نہ کرتے ہوں۔اگر پردے کی روح مختلف صورتوں میں منعکس ہورہی ہے تو پھر یہ پر دے غلط ہیں۔اگر امتیاز ہیں تو معمولی تمدنی امتیاز۔فرق ہیں تو تھوڑے تھوڑے معاشرتی فرق ہیں لیکن جہاں تک روح کا تعلق ہے وہ ایک ہی عالمی روح ہے جو خد اتعالیٰ کی وحدت کی مظہر ہے تو پھر یہ تھوڑے تھوڑے فرق کچھ بھی اثر انداز نہیں ہو سکتے۔پھر اسی طرح پردے کی ظاہری شکلیں ہر عورت کے حالات کے مطابق بدلتی ہیں، اس کی عمر کے مطابق بدلتی ہیں ، اس کے عمومی