اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 397
حضرت خلیہ مسیح الرایہ کے مستورات سے خطابات ۳۹۷ خطاب ۲۶ را گست ۱۹۹۴ء نہیں ہے۔تو مسکرا کے کہا کہ چپ ہی کر جائیں لوگ یہی سمجھتے ہیں میں نے بڑی قربانی کی ہے مگر مجھے تو کچھ بھی نہیں پتہ لگا اور اُس وقت مجھے سمجھ آئی کہ شہادت کی دعائیں کیوں کیا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو کر تکلیفیں اٹھا کر، زخم کھا کر ، پھر کیوں شہادت کی دعائیں کیا کرتے تھے۔خدا اپنے فضل کے ساتھ اُس وقت ایسی تائید فرماتا ہے کہ انسان کو شدید زخموں کے باوجود وہ دکھ نہیں ہوتا جو دشمن سمجھتا ہے کہ اسے ہم پہنچارہے ہیں۔اب یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ ہر زخمی ہونے والے کی یہی کیفیت ہو گی مگر یہ ایسی دو گواہیاں ہیں جن کا میں خود گواہ ہوں اور بلا تکلف انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے موقع پر ہماری حفاظت فرما تا رہا ہے۔چنا نچہ کھتی ہیں سندھیوں کی طرف سے ہمیں پیغام آنے شروع ہوئے کہ ہم آپ کے گھروں اور بچوں کی حفاظت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن نسیمہ نے انہیں جواب دیا کہ ہم اپنے گھروں کی حفاظت خود کریں گے۔چنانچہ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے خود پہرے دیئے۔لطیف صاحب اور والد صاحب کی طرف سے بہت پریشانی تھی کہ نا معلوم وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ان کے ساتھ ستائیس اور احمدیوں کو بھی گرفتار کر کے لے گئے۔سکھر کے حالات سنگین صورت اختیار کر گئے۔احمدیوں کی آزادی سلب ہوگئی ، گیارہ احمدی شہید ہو گئے ، ان حالات میں سکھر کونئی قیادت کی ضرورت تھی۔اب بھی وہ کہتی ہیں کہ اس وقت میرے شوہر لطیف کے سوا کوئی اور ایسی چیز نہیں تھی جو میں دین کے لئے پیش کر سکتی اور میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ یہ توفیق دے کہ میں اپنا پیارا خاوند دین کے لئے پیش کردوں۔کہتی ہیں ایسی یہ دعا میری قبول ہوئی کہ ان شدید خطرے کے دنوں میں جب کہ سکھر جانا ہی ایک احمدی کے لئے خطرے کا موجب تھا اُن کے میاں کو سکھر کا امیر مقرر کر دیا گیا اوران کولازماً اپنا زمیندارہ چھوڑ کر سکھر جانا پڑا اور یہ نسیمہ بھی اُن کے ساتھ وہاں رہیں۔کیونکہ میں اُس زمانے میں ان سب لوگوں سے واسطے رکھتا تھا اور میری خدمات میں اولین خدمت ان حادثات سے متاثر ہونے والوں کے لئے وقف تھیں اس لئے میں جانتا ہوں ان کے ساتھ میرا مسلسل رابطہ رہا اور بڑے حو صلے اور ہمت سے نسیمہ اور ان کے والد اور لطیف کے والد اور پھر ان کے بچوں نے غیر معمولی بہادری اور ہمت سے احمدیت کی خاطر اپنے دوسرے مظلوم بھائیوں کی حفاظت کی اور ان کے مقدمے لڑے ان کی ضرورتیں پوری کیں اور اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے ان کو بھی خطرات سے بچالیا۔