اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 398
۳۹۸ خطاب ۲۶ اگست ۱۹۹۴ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ایک دفعہ انہوں نے مجھے لکھا کہ ہمارے گھروں کے اوپر موت کے نشان لگ چکے ہیں اور حملہ آور بھی آتے رہے ہیں اور ہمیں متنبہ کر دیا گیا ہے کہ اب تمہاری زندگیوں کے چند دن رہ گئے ہیں اور ساتھ ہی مجھے تسلی دی کہ آپ بالکل مطمئن رہیں، ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔جو مرضی کرنا ہے کریں ہم ایک ذرہ بھی اس جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔جو منصب جماعت نے ہمارے سپرد کیا ہے ہم اُس پر قائم رہیں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو منصب پر بھی قائم رکھا اور ان کی حفاظت بھی فرمائی۔یہ خود بیان کرتی ہیں، اس قسم کی دھمکیوں کے متعلق کہتی ہیں ایک دن گیٹ پر ایک نامعلوم خط پڑا ہوا ملا۔ایسے ہی خطوط پہلے شہداء کو بھی لکھے جاتے تھے۔جو گیارہ شہید ہوئے تھے ان میں سے کچھ تو اکٹھے ایک جگہ شہید ہوئے تھے، کچھ کو پہلے خط ملتا تھا اور بتایا جا تا تھا کہ تمہاری موت سر پر کھڑی ہے ابھی بھی تو بہ کر لو اور جب وہ ثابت قدم رہتا تھا تو پھر عین مقررہ وقت پر اسی طرح ان کو شہید کیا جاتا تھا۔کہتی ہیں ایک دفعہ میں نے دروازہ کھولا تو میرے دروازے پر بھی وہ خط پڑا ہوا تھا۔خط ہاتھ میں پکڑے ہوئے میرا جسم کانپ رہا تھا ، دکھ کی شدت سے وہاں کھڑے کھڑے بے ساختہ انتہائی گریہ وزاری سے اپنے مولا کے حضور التجا کی کہ یا باری تعالیٰ ! اتنی جلدی تین چار سال اور تو کچھ ہمیں خدمت کا موقع دیا ہوتا۔اللہ نے ہی پھر حفاظت فرمائی اور وہ خط بے اثر رہا۔خورشید بیگم صاحبہ اہلیہ محمد زمان صاحب لکھتی ہیں میں نے شروع سے ہی احمدیت کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں ، بہت ظلم برداشت کئے ہیں۔چنیوٹ میں ہماری رہائش تھی۔ایک دفعہ جلوس کی شکل میں مخالفین اکٹھے ہو کر آگئے اور گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ہمسایوں نے بڑی بہادری سے دفاع کیا اور اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں محفوظ رکھا۔یہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اکثر جگہ یہ دیکھا گیا ہے کہ غیر احمدی شرفاء نے اپنے احمدی ہمسایوں کی اگر ظاہری نہیں تو خفیہ مدد ضرور کی ہے۔یہ اس لئے میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ ساری قوم کو ہم ملزم نہیں کر سکتے ، ساری قوم مجرم نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں شدید ترین مخالفت کے دوران بھی شرافت کی رگ ضرور زندہ رہی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو بعض احمدیوں کے اوپر جوان کے بد ارادے تھے ان کا بہت بھیانک نتیجہ نکل سکتا تھا۔میں نے چونکہ بعد میں تاریخ اکٹھی کرنے کی خاطر وقف جدید کے زمانے میں اپنے معلم بھیج کر، انسپکٹر بھیج کر یا ویسے جماعتوں کو لکھ کر حالات اکٹھے کرنے شروع کئے تو اس دوران مجھے معلوم ہوا کہ بہت سے غیر احمدی شرفاء ایسے تھے جنہوں نے خود اپنی جان