اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 396
حضرت خلیلہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۹۶ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء وہ بختی کے دن تھے جن سے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُسی کے سہارے کے ساتھ زخمی مگر ایمان کو زندہ رکھتے ہوئے گزری۔نسیمہ لطیف صاحبہ جمال پور سندھ سے کھتی ہیں کہ ۲۴ یا ۲ مئی ۱۹۸۵ء کا دن تھا کہ عصر کی نماز کے بعد ہماری گوٹھ جمال پور کوسکھر کی پولیس نے گھیرے میں لے لیا اور میرے شوہر لطیف اور آپ کے والد کو بھی گرفتار کر کے لے گئے اور کہا جب تک ایوب نہیں ملتا آپ دونوں ہماری حراست میں رہیں گے۔یہ ایوب اب خدا کے فضل سے انگلستان پہنچ چکا ہے وہاں ٹھیک ٹھاک ہے سب کچھ۔لیکن اُس نے بہت سختیاں جھیلی ہیں۔آخر جب ایوب پکڑا گیا تھا تو اس کو ساری ساری رات الٹا لٹکاتے تھے اور ساتھ ڈنڈوں اور سوٹوں اور جوتیوں سے مارتے تھے اور کوئی جھوٹ بکوانا چاہتے تھے کہ بتاؤ وہ کون ہے جس نے مولویوں کے ایک مدرسے کو آگ لگائی تھی یا ہم وہاں پھینکا تھا حالانکہ کسی احمدی کا کام نہیں تھا۔تو یہ جب کہتا تھا کہ مجھے علم ہی نہیں، مجھے پتہ ہی نہیں یہ کیا واقعات ہیں۔کیوں ایسی باتیں میری طرف منسوب یا کسی اور کی طرف کر رہے ہو تو پھر مارتے جاتے تھے۔یہاں تک کہ اسی حالت میں بے ہوش ہو جاتا تھا اور میں نے جب انگلستان پہنچا ہے تو اُس سے سوال کیا ایوب سے کہ یہ چھوٹا بچہ تھا جب ہم گوٹھوں میں جایا کرتے تھے اس لئے تکلف سے ذکر کرنے کی بجائے میں ایک لڑکے کے طور پر ذکر کر رہا ہوں۔میں نے کہا ایوب تمہیں جب یہ ہو رہا تھا سب کچھ تو تم بر داشت کس طرح کرتے تھے۔تعجب ہے کہ تم میں اتنی برداشت تھی تو اس نے بتایا کہ آپ کو جتنی تکلیف ہورہی ہے مجھے اس سے کم ہو رہی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کچھ اثر کر دیا تھا کہ اس مار کے باوجود الٹا لٹکے ہوئے بھی مجھ میں تکلیف کا حساس ختم ہو گیا تھا اور پولیس والے بھی حیران ہوتے تھے کہ یہ شخص ہے کس چیز کا بنا ہوا؟ اتنا ہم اُس کو تکلیف پہنچارہے ہیں لیکن اس کو کچھ نہیں ہورہا۔تو دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بعض دفعہ خدا اس وقت غیر معمولی طور پر انسان کی حفاظت فرماتا ہے۔یہی بات مجھے ۷۴ء کے فساد کے دنوں میں ایک اور احمدی نے بتائی جن کو اینٹوں سے کوٹا گیا تھا۔ان کا منہ جو تھا وہ کر چیوں کا ایک تھیلا بن چکا تھا۔ہڈیاں ٹوٹیں ، دانت ٹوٹے اور بہت ہی دردناک حالت تھی اور خدا نے بچالیا۔بعد میں جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو گیا تو تب بھی ان کا منہ بے چارے کا اسی طرح زخموں سے بگڑا ہوا تھا۔ان سے میں نے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ مجھے بتائیں کہ اُس وقت آپ کی حالت کیا تھی جب اس قدر خوفناک سزا دی جارہی تھی اینٹوں سے منہ کوٹنا کوئی معمولی بات تو