اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 395

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۹۵ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء دودھ پانی بھی نہیں ملتا تھا۔کہتی ہیں میرے میاں دوکان پر تھے جلوس آیا، پہلے پتھراؤ کیا، پھر ان کو دوکان کے اندر بند کر دیا۔ایک دن نہیں، کئی دن ایسا ہوتا رہا پھر اؤ کرتے ،سزا دیتے اور پھر اپنی ہی دوکان میں بند کر کے تالا لگا کر چلے جاتے۔سخت گرمی کے دن تھے جان کنی کی حالت ہوگئی۔گھڑے میں تھوڑا سا پانی رہ گیا تھا۔اس میں قمیض بھگو کر منہ اور جسم تر کرتے تا کہ بے ہوش نہ ہو جائیں۔باہراتنا شور پڑا ہوتا تھا کہ کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔کہتی ہیں ایک دفعہ صبح کے آٹھ بجے سے شام کے پانچ بجے تک دوکان میں بند رہے۔بعد میں کسی نے اتفاق سے پولیس کو اطلاع کی اور کوئی ایک شریف النفس پولیس والا ایسا تھا جو گاڑی لے کر آیا اور پھر ان کو گھر چھوڑ گیا۔یعنی کئی دن تک بیوی نے اپنے خاوند کا منہ نہیں دیکھا اور نہ پتہ تھا کہ کس حال میں ہیں۔روزانہ ان کو وہیں بند کر کے رکھا جاتا اور طرح طرح سے عذاب میں مبتلا کیا جاتا۔کہتی ہیں جب بھی جلوس آتا سب لوگ گھروں میں ایک دوسرے سے چمٹ کر بیٹھ جاتے اور ہر وقت دعائیں کرتے رہتے تھے۔پھر ہمیں اعصابی طور پر بیمار کرنے کے لئے ہمارے گھروں کے سامنے پٹانے چھوڑے جاتے۔ساری ساری رات ڈھول بجاتے ،کبھی پٹانے چھوڑتے ، کبھی چینیں مارتے ،غرضیکہ بچے جو پہلے ہی سہمے ہوتے تھے ان کو دو گھڑی سکون کی نیند بھی نصیب نہیں ہوتی تھی۔کہتی ہیں میں نے تو بعض دفعہ ساری ساری رات اسی حالت میں جاگ کر گزاری۔رقیہ صاحبہ اہلیہ محمد اسحاق صاحب لکھتی ہیں۔جون ۷۴ء میں سرگودھا میں مخالفین نے ہمارے گھر پر حملہ کیا پتھراؤ کیا، لوٹا، کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیئے ان کا ارادہ رات کو آگے لگانے کا تھا۔ہم ایک دوسرے گھر میں چلے گئے۔مخالفین کو پتہ چلا وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا اور مولویوں کو معلوم ہوا تو اس گھر کو بھی آگ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا جو ایک غیر احمدی کا گھر تھا مگر غالباً اس کے اثر ورسوخ کی وجہ سے یہ ارادہ بدل دیا۔محلے والوں نے بائیکاٹ کر دیا ، دوکاندار سودا نہیں دیتا تھا اور پولیس نے گھر کی تلاشی کے بہانے کئی قیمتی چیزیں چرا لیں۔بھائی چھپ کر ضرورت کی چیزیں لاتے اور احمدیوں کے گھروں میں پہنچاتے۔ایک دفعہ مولویوں نے دیکھ لیا اور پکڑ کر خوب مارا اور کلمہ سنانے کو کہا۔جب کلمہ سنا دیا تو اسے مارتے ہوئے مسجد میں لے گئے اور منہ اور کپڑے کالے کر دیئے۔انہیں دنوں میرا چھوٹا بھائی سرگودھا سے ربوہ آ رہا تھا تو راستے میں بہت سے آدمیوں نے اسے مارنا شروع کر دیا اور ربوہ بس نہ روکی اور بس والا اسے دو پلوں سے گزار کر اس حالت میں کہ لوگ مارتے چلے جاتے تھے آخر چلتی ہوئی بس سے دھکا دے کر سڑک پر پھینک گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بچالیا اور اُس کو زندگی بخشی۔غرض