اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 389

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۸۹ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء کہتی ہیں کہ میرے خاوند کو گھسیٹ کر مسجد میں لے گئے اور بہت مارا پیٹا اور بار بارختی کی۔میرا سارا زیور چھین لیا اور جو پلاٹ تھا اس پر بھی قبضہ کر لیا۔میں نے سب کچھ بڑی ہمت اور حو صلے سے برداشت کیا اور یہ عہد کر لیا کہ اگر یہ مجھے آگ میں بھی ڈال دیں گے تو میں احمدیت کو نہیں چھوڑوں گی چنانچہ دعائیں مقبول ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے بالآخران ظالموں سے مجھے نجات بخشی۔ہاجرہ تحسین صاحبہ صدر لجنہ قصور بیان کرتی ہیں کہ ۷۴ء میں قصور شہر کے تمام احمدی گھروں پر پہرہ لگا دیا گیا کہ کوئی کھانے کی چیز اُن تک نہ پہنچ سکے نہ پینے کا پانی ، نہ دودھ، نہ کوئی کھانے کی چیز۔ایک دن کارپوریشن کا عملہ پانی کا پائپ کاٹنے کے لئے بھی آ گیا اور اُنہوں نے کہا کہ تم پانی پر زندہ ہو ہم یہ پانی بھی بند کریں گے۔ان سے ان کی لمبی گفتگو ہوئی اور انہوں نے قتل کی بھی دھمکیاں دیں۔آخر اس نے کہا کہ دیکھو تم ایک خون کی بات کر رہے ہو یہاں جو کچھ بھی ہے سب حاضر ہے۔تم ہمارے خون کی ندی بہا دو گے تب بھی ہم اپنے دین اور ایمان کو نہیں چھوڑیں گے، میں حاضر ہوں، میرے بچے حاضر ہیں، جو کرنا ہے کر گزرو۔وہ کہتی ہیں اس بات کا اُن پر ایسا اثر پڑا کہ وہ عملہ جو با قاعدہ اس غرض سے بھجوایا گیا تھا کہ پائپ کاٹ دیں، بغیر پائپ کاٹے واپس چلا گیا اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ یہ لوگ اپنے عقیدے سے ملنے والے نہیں ہیں اس لئے ان کا ساتھ جو کچھ بھی کرنا ہے بے کار ہے، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔اس کے باوجود ہیں دن تک مسلسل ناکہ بندی جاری رہی۔نکلےگا۔کے باوجود امتہ الحمید صاحبہ لھتی ہیں کہ ۱۹۷۴ء میں مخالفین نے جلوس کی شکل میں فیصل آباد کے احمدی گھروں کا رخ کیا اور میرے میاں اور چار بیٹے نماز مغرب کے لئے ایک فرلانگ پر گئے ہوئے تھے اور گھروں میں میں اور میری چار معصوم بیٹیاں تھیں۔میں خود بیمار تھی ، ہم دوسری منزل پر چلے گئے۔مردوں کی طرف سے بہت فکر مند تھے۔میری بیٹی جو نسبتا بڑی تھی وہ گھبرا کر نکلی اور پانچ فٹ کی دیوار پھلانگ کر اپنی ہمسائی کی جا کر منتیں کیں، اس کو رحم آیا تو وہ ساتھ لے کر جہاں میرے میاں اور بچے تھے ان کو اطلاع دینے کے لئے پہنچ گئی۔کہتی ہیں میں جلوس سے محو گفتگو تھی اور مسلسل ان کی باتوں کا جواب دے رہی تھی جب ان کے پاس اور باتیں کرنے کی نہ رہیں، کوئی دلیل نہ رہی تو آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ نماز عشاء کے بعد بڑا جلوس اکٹھا ہو اور اینٹوں اور پتھروں کی بارش کی جائے۔چنانچہ رات کے اندھیرے میں بہت خوفناک آوازوں کے ساتھ اُنہوں نے ہمارے مکان پر حملہ کیا ہر طرف سے اینٹوں اور پتھروں کی بارش برسا دی اور مجبور کیا میرے میاں اور بیٹے کو کہ باہر نکلیں اور کلمہ شہادت سنائیں۔