اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 390

۳۹۰ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات چنانچہ ان کے کہنے میں آکر وہ باہر نکلے اور اُس پر انہوں نے اُن کو مارنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ کلمہ پڑھو۔پھر وہی بات جب وہ کلمہ پڑھتے تھے تو کہتے تھے یہ کلمہ کافی نہیں ہے مسلمان بنانے کے لئے تم مرزا صاحب کو گالیاں دو۔چنانچہ انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو اس سے پہلے خاتون نے دیا تھا کہ گالیوں والا کلمہ میں نہیں جانتا۔جو کلمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ہے وہ پڑھ کر سناؤں گا وہی پڑھوں گا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہوں گا۔چنانچہ ادھ موا چھوڑ کر ان کو جب وہ چلے گئے تو کہتی ہیں بڑی مشکل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہم بچ گئے۔آخری کوشش انہوں نے یہ کی کہ ہمیں زندہ اپنے مکان میں جلا دیں لیکن تیل چھڑکنے کے باوجود، بار بار اس کو شعلے دکھانے کے باوجود کوئی ایسی بات ہوئی کہ مکان کو آگ نہیں لگ سکی چنانچہ ایسی حالت میں ہی ٹوٹے ہوئے دروازوں اور کھڑکیوں کے ساتھ ہم نے رات بسر کی اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ ہمیں اُن کے چنگل سے نجات بخشی۔نسیم اختر صاحبہ اہلیہ ولایت خان صاحب بیان کرتی ہیں کہ جب چک سکندر پر حملہ ہوا تو حملہ آوروں نے احمدی گھروں کو آگ لگانا شروع کر دی۔ہمارے گھر آئے تو گھر کی کھڑکیاں، دروازے انہوں نے توڑ دیئے ، سارا سامان باہر نکال کر جلا دیا، کچھ لوٹ کر لے گئے ، ہم لوگ گھر کے پچھلے کمرے میں تھے۔وہ لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے ، ان کو یہیں زندہ جلا دو جب وہ لوگ سامان جلا رہے تھے تو میری زبان سے کلمہ طیبہ کے الفاظ نکل رہے تھے۔ایک لڑکا قرآن پاک کو آگ میں پھینکنے لگا تو اس وقت مجھ سے برداشت نہ ہوا۔میں بھاگ کر بے خطر اس کی طرف جھپٹی اور کہا دیکھو قرآن نہ پھینکو۔وہ آگے بڑھا اور میرے منہ پر تھپڑ مارنے لگا میں نے اپنا منہ آگے کر دیا اور کہا کہ دیکھو تھپڑر ضرور میرے مارلو، جتنے چاہو مارلومگر قرآن پاک کو کچھ نہ کہو مگر اس ظالم نے اس کے باوجود جلتی آگ میں قرآن پھینک دیا۔ظالم آگ میں سامان ڈالتے اور کہتے اب تمہارا مرزا ہی ہے جو تمہیں سامان دے گا۔اللہ کا فضل ہے کہ یہ گاؤں اب پھر آباد ہو چکا ہے۔خدا کے فضل سے سارے پہلے سے بہتر ہیں۔وہ کہتی ہیں میں نے کہا پہلے بھی خدا ہی دیتا تھا اب بھی خدا ہی دے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اب ان کو پہلے سے بڑھ کر سب کچھ عطا فرمایا ہے اور اس وقت وہ ڈش اینٹینا کے ذریعے ہمارا یہ اجلاس دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔لکه سید صادق شاہ صاحب پھگلہ کی بیگم نیر سلطانہ صاحب لکھتی ہیں کہ میں شادی کے بعد احمدی ہوئی سسرال والے سب پہلے سے احمدی تھے لیکن سارا میکہ اور برادری غیر احمدی تھے۔۷۴ء کے بعد بہت زیادہ مخالفت شروع ہو گئی۔والد صاحب پر دباؤ ڈالا گیا کہ بیٹی کی علیحدگی کروا کر اُسے گھر لے آؤ۔