اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 388

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۸۸ خطاب ۲۶ اگست ۱۹۹۴ء جماعت احمدیہ کی قربانیاں لکھنے کے لئے روشنائی کا کام دیتا ہے یا مظلوم اور بے سہارا عورتوں کی دعاؤں میں گرنے والے آنسو ہیں جن سے یہ کہانی رقم ہورہی ہے مگر یہ ایک ایسا عظیم سرمایہ ہے جماعت کا جسے ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہے اور احمدی خواتین کو اپنی ان بزرگ خواتین سے ہمیشہ سبق لینا چاہئے جو انتہائی شدید خطرات کے وقت بھی ، بڑی دلیری اور ہمت کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرتی رہیں اور اپنے ایمان کی ا حفاظت کی ، خواہ اُس کے نتیجے میں اُن کو بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑی۔چند واقعات جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ان میں سے کچھ مختصر ذکر کروں گا کیونکہ واقعات بہت زیادہ ہیں لیکن خلاصہ بات کرتے ہوئے آہستہ آہستہ ایسے واقعات کی طرف بڑھوں گا جو غیر معمولی طور پر دل پر اثر کرنے والے ہیں۔ایک احمدی خاتون جو بیٹ ناصرآباد کی صدر لجنہ اماءاللہ میں دیکھتی ہیں کہ گزشتہ سے پیوستہ سال دشمنوں نے اُن کو گھیرے میں لے لیا اور زدو کوب کرنے لگے بار بار یہ کہتے تھے کہ کلمہ پڑھو، کلمہ پڑھو۔وہ کہتی ہیں کہ میں جب کلمہ سناتی تھی تو پھر مجھ پر مکوں اور گھونسوں کی بارش شروع ہو جاتی تھی اور کوئی تھپڑ مارتا تھا اور کوئی جو بھی ہاتھ میں چیز تھی اس سے تکلیف پہنچا تا تھا یہاں تک کہ میں نڈھال ہوگئی اور مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ میں کیا کروں۔کیونکہ وہ کہتے تھے کلمہ پڑھو اور میں کلمہ پڑھتی تھی تو آخر بات یہ کھلی کہ وہ اس لئے کہتے تھے کہ یہ کلمہ تو ہمارا کلمہ ہے، تم اپنا کلمہ پڑھو اور چونکہ ہمارا الگ کلمہ ہی کوئی نہیں اسلئے ان کا دماغ اُس طرف جاہی نہیں سکتا تھا کہ میں الگ کلمہ کونسا پڑھوں۔غرضیکہ اسی حالت میں یہ کہتی ہیں کہ آخر انہوں نے مجھ پر یہ بات کھولی کہ اگر کلمہ پڑھنا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دو۔اس پر انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی کرنا ہے کر گز رو نگر میں تو کلمہ پڑھوں گی اور میرے کلمہ میں کسی کو گالیاں دینا شامل نہیں ہے۔لجنہ اماءاللہ بہاولپور کی صد رکھتی ہیں کہ ۱۹۵۷ء میں احمدیت قبول کی تھی۔۱۹۶۵ء میں میری شدید مخالفت شروع ہوگئی۔محلے کے لوگوں نے بہت سختی کی۔ایک بار انہوں نے گھر آکر انہیں مارا پیٹا۔باہر لوگ اکٹھے کر لئے جو باہر نعرے لگا رہے تھے اور مجھے قتل کی دھمکیاں دے رہے تھے۔خوف کی وجہ سے کہتی ہیں میں نے اپنے خاوند اور بیٹے کو باہر بھجوا دیا تھا تا کہ وہ زندہ بچ جائیں لیکن خود اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر وہیں بیٹھی رہی۔۱۹۷۵ء میں پھر یہ جوش دوبارہ ابلا تو بڑے زور سے سارے محلے والوں نے ہم پر سختی شروع کر دی اور رات کے وقت مل کر حملہ کیا۔