اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 377

حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء ہ مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ جن کے شوہر قریشی محمود احمد صاحب شہید کئے گئے لکھتی ہیں که قریشی محمود کو شہادت کا شوق ہی بہت تھا۔۱۹۷۴ء میں احمدیوں کی مخالفت زوروں پر تھی مگر آپ نے ہر موقع پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔یہ مخالفت کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی گئی اور آپ کے ماموں زاد بھائی مقبول احمد کو فروری ۱۹۸۲ء میں پنوں عاقل میں شہید کر دیا گیا۔جب اپنے بھائی کو بہشتی مقبرے میں قبر میں اتار رہے تھے تو کہا اے مقبول ! یہ رتبہ خوش نصیبوں کو نصیب ہوتا ہے کاش مجھے بھی یہ رتبہ حاصل ہو جائے اور میں بھی یہیں پر آؤں۔ربوہ سے واپسی پر وہاں کی پولیس نے آپ سے کہا کہ آپ اپنی زمینیں فروخت کر کے کہیں اور چلے جائیں کیونکہ پہلے ہی آپ کے رشتے دار بھائی کو شہید کیا جاچکا ہے۔ہم مولویوں کی وجہ سے مجبور ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا احمد بیت کی مخالفت تو ہر جگہ ہے، ہر جگہ دشمن موجود ہے اگر شہادت مجھے ملنی ہے تو یہاں کیوں نہ ملے۔آپ کے چار بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں۔دو بیٹے سکول جاتے تو مولویوں کے کہنے پر ان کو کچھ لڑ کے پتھر مارتے اور گالیاں دیتے اور سکول کے اساتذہ بھی مذہبی مخالفت کی بناء پر زیادہ بختی کرتے۔ان حالات میں تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔اکثر گروہوں کی شکل میں لڑکے آتے اور گھروں پر بھی فائر کرتے۔دشمن رات کو چھپ کر ہمارے کھیتوں کے پانی بھی بند کر دیتے۔پھر پکی ہوئی فصلوں کو بھی آگ لگا دیتے یا کاٹ کر اجاڑ جاتے تا کہ ان پر ذریعہ معاش تنگ ہو جائے اور کسی طرح یہ یا احمدیت سے تو بہ کر لیں یا یہ سب چیزیں چھوڑ کر کہیں نکل جائیں۔کہتی ہیں کہ ایک رات دروازہ کھٹکا ، جیٹھ کا بیٹا سعید باہر گیا۔جب دیر تک واپس نہ آیا تو آپ کے شوہر قریشی محمود احمد صاحب باہر گئے دیکھا کہ دو آدمی لوہے کی موٹی سلاخ سے سعید کو مار رہے ہیں۔انہیں لوگوں کو قریشی صاحب کو شہید کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ایک طرف گندم کاٹ کر رکھی ہوئی تھی اس کو مولویوں کے آدمیوں نے آگ لگادی۔مولوی بازار میں لوگوں کو بھڑکا کر کہ محمود قادیانی کو قتل کرنا واجب اور ثواب ہے ساتھ ہی کہتے رہے کہ دیکھو قادیانی کتنے ڈھیٹ ہیں۔ہم یہ سب کچھ ان پر کر رہے ہیں لیکن مذہب نہیں چھوڑتے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر نے دین کی خاطر مرنا قبول کر لیا اور دین کو ہمیشہ دنیا پر مقدم رکھا۔آخر رمضان کا مہینہ آ گیا۔مخالفت زوروں پر تھی مولوی مساجد میں غلیظ زبان استعمال کرتے۔جب انہوں نے سب حربے آزما لئے اور سخت نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا تو آخر ایک رات وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہو گئے۔۲۹ جولائی شام سات بجے ۱۹۸۵ء کو جب ایک ہندو دوست کے کام سے باہر جانے لگے تو آپ کی اہلیہ نے کہا کہ واپسی پر رستہ