اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 378

خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء حضرت خلیفہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات بدل لیں کیونکہ دشمن تاک میں رہتا ہے۔انہوں نے کہا جو رات مجھے قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آسکتی۔جب تک میری زندگی خدا نے لکھی ہے وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ایک دن ایک دوست کو ملنے گئے آپ کا چودہ سالہ بیٹا بھی ساتھ تھا واپسی پر تین آدمیوں نے اچانک ایک گلی سے نکل کر آپ پر حملہ کر دیا اور وہیں شہید کر دیا۔شہادت کے وقت اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹے احمدیت نہ چھوڑ نا خواہ تمہیں بھی جان دینی پڑے۔پھر بیان کرتی ہیں کہ جس رات آپ کے شوہر کی میت کور بوہ پہنچایا گیا اس رات آپ کے گھر زبردست فائرنگ ہوئی مگر خدا کے فضل سے سب محفوظ رہے۔آپ بتاتی ہیں کہ بچیوں کا سر فخر سے بلند رہتا ہے کہ ہمارے والد نے شہادت کا رتبہ حاصل کر لیا اور کہتی ہیں کہ موت تو ایک اہل حقیقت ہے کسی اور طریق سے بھی تو آسکتی تھی۔رخسانہ طارق جولائی ۱۹۸۶ء میں عید کے دن شہید کی گئیں۔رخسانہ کے والد بتاتے ہیں کہ شادی سے چند روز قبل اس نے ایک خواب دیکھی کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوں اور حضور انور تشریف لائے ہیں اور کمرے کے باہر کی طرف کھڑکی کے راستے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ہے جیسے بزرگ بچوں سے پیار کرتے ہیں۔یہ خواب بیان کر کے وہ بہت خوش ہوئی۔ایک عجیب بات جو میں نے رخسانہ میں دیکھی وہ شادی کے چند دن بعد ہی اپنا جہیز بانٹنے لگی۔مجھ سے اجازت لے کر سارا سامان غریب لڑکیوں میں تقسیم کر دیا۔پوچھنے پر کہنے لگی کہ میں نے اپنی امی جان سے کہا تھا کہ مجھے صرف دو چار پائی وغیرہ دے دیں زندگی ایسے ہی فانی ہے اس کا کیا بھروسہ ہے۔جتنی بھی غریبوں کی خدمت کرلوں مجھے راحت نصیب ہوتی ہے۔طارق بتاتے ہیں کہ غریبوں کی خدمت کر کے اس کے چہرے پر اتنی خوشی ہوتی تھی جیسے سورج نکل آیا ہو۔جولائی ۸۶ء میں عید ہی کا دن تھا۔رخسانہ نے عید پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا طارق کے بڑے بھائی نے مخالفت کی اور ڈانٹ کر منع کر دیا۔وہ طارق سے کہنے لگی کہ ہم ربوہ چلے جاتے ہیں وہاں اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔پھر وہ پرانے کپڑوں میں ہی عید کی نماز کے لئے چلی گئی حالانکہ شادی کے بعد یہ اس کی پہلی عید تھی۔عید کی نماز میں وہ بہت روئی اور گھر واپس آتے ہوئے بہت خوش تھی سب کے لئے ناشتہ تیار کیا۔ان کے خاوند بتاتے ہیں کہ میں حیران تھا آج اتنی خوش کیوں ہے۔وہ گھر میں سب کو خوشی سے ملی ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ اس کے آخری لمحات ہیں۔طارق کا بڑا بھائی آیا اور آتے ہی رخسانہ پر گولیوں کی بارش برسادی۔طارق کہتے ہیں کہ مجھے اکثر کہا کرتی تھی کہ جب میں اللہ کو پیاری ہو جاؤں تو مجھے پہاڑوں کے دامن میں دفن کرنا۔وہ ربوہ ہی کے