اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 376

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء پولیس کا سپاہی ان کو بتارہا ہے کہ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ صحابہ اسلام پر کیسے جان نثار کیا کرتے تھے۔اس نے کہا میں اس لڑکے کو کبھی بھلا نہیں سکوں گا جس کی عمر بمشکل سترہ اٹھارہ برس ہوگی۔سفید رنگ، لمبا قد اس کے ہاتھوں میں بندوق تھی۔ہمارے ایک ساتھی نے جاتے ہی اس کے ہاتھ پر ڈنڈا مارا اور بندوق چھین لی ، جلوس اس لڑکے پر تشدد کر رہا تھا۔جلوس میں سے کسی نے کہا ”مسلمان ہو جاؤ اور کلمہ پڑھو اس نے کہا ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور میں سچا احمدی ہوں ،مسلمان ہوں۔جلوس میں سے کسی نے کہا مرزا کو گالیاں دو اس لڑکے نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا یہ کام میں کبھی نہیں کروں گا اور ان کی ایک نہ سنی۔اس نے کہا تم مجھے اس ہستی کو گالیاں دینے کے بارے میں کہہ رہے ہو جو اس جان سے بھی پیارا ہے اور ساتھ ہی اس نے مسیح موعود زندہ با داور احمد بیت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔نعرہ لگانے کی دیر تھی کہ جلوس نے اس لڑکے کو چھت پر سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا اینٹوں اور پتھروں کی بارش شروع ہوگئی۔مزید چھت پر بنے پردوں کی جالیاں تو ڑ کر اس پر پھینکیں اور اس لڑکے نے میرے سامنے اپنے مذہب پر اور صداقت پر جان شار کر دی۔یہ واقعہ ہے جو اس پولیس والے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس نے گواہی دی کہ میں یقین کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ کے زمانے کے بعد بیچ کا زمانہ ایسی مثالوں سے خالی ہوگا۔کہتا ہے آج مجھے پتہ لگا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ کس طرح دین کی خاطر اپنی جانیں فدا کیا کرتے تھے۔اس کی یاد میں بھی انہوں نے کچھ باتیں لکھی ہیں۔کہتی ہیں بیٹا محمود نہایت خوبصورت ،خوب سیرت ، پاک طینت تھا۔وہ بچپن ہی سے سب کا ہمدرد اور ہر کسی کے دکھ درد میں کام آنے والا تھا، وہ بچپن ہی سے پانچ وقت کی نمازیں مسجد میں جا کر ادا کیا کرتا تھا، باپ کی طرح باغیرت اور تبلیغ کا دھنی تھا۔جس دن اس کے ایف اے کے امتحان ختم ہوئے تو مجھ سے کہنے لگا کہ امی دعا کریں میں اعلیٰ نمبروں میں کامیاب ہو جاؤں تا کہ میں فوج میں کمیشن حاصل کروں۔اس وقت میں نے کہا تم جیسے بہادر جو شیلے جو ان کی تو جماعت کو بہت ضرورت ہے تو کہنے لگا میں فوج میں رہتے ہوئے تبلیغ سے غافل نہیں رہوں گا۔کیا آپ نہیں چاہتیں کہ میں وطن کی خدمت کروں اور قادیان بھی تو ہم ہی نے واپس لینا ہے۔اگر میں شہید ہو گیا تو آپ شہید کی ماں کہلائیں گی ، اگر فتح یاب لوٹا تو غازی کی ماں۔یہ میرا بیٹا شہید ہوا اور ظالموں نے بڑے دردناک طریق سے اس کو مارا مگر یہ شہادت ایک عظیم شہادت ہے جو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔