اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 373

حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۷۳ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء خدا نے اس کو ہمت عطا فرمائی کہ وہ پانچ فٹ کی چھلانگ لگا کر دوسرے مکان میں گئیں اور وہاں سے پھر دوسرا راستہ اختیار کر کے اس نے اپنی جان اور عزت بچائی۔* میرے ایک کلاس فیلو اور عزیز دوست تھے محمد افضل شہید۔ان کی بیگم سعیدہ افضل آج کل کینیڈا میں ہیں۔میں نے ہدایت کی تھی کہ براہ راست ان سے یہ واقعہ منگوائیں کیونکہ لجنہ ربوہ کی طرف سے شنید کے طور پر یہ واقعہ آیا تھا۔اب وہ واقعہ موصول ہو گیا ہے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ شہادت سے چند روز پہلے کی بات ہے کہ افضل شہید عشاء کی نماز پڑھ کر گھر واپس آئے تو میں بستر پر بیٹھی رورہی تھی۔دیکھ کر کہنے لگے سعیدہ کیوں رورہی ہو۔میں نے کہا یہ کتاب روشن ستارے“ پڑھ رہی تھی اور میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں ہوتی اور میرا نام بھی کسی نہ کسی رنگ میں ایسے روشن ستاروں میں شمار ہو جاتا۔اس پر افضل کہنے لگے یہ آخرین کا زمانہ ہے اللہ کے حضور قربانیاں پیش کرو تو تم بھی اولین سے مل سکتی ہو اور پہلوں میں شمار ہوسکتی ہو۔مجھے کیا خبر تھی کہ کتنی جلدی اللہ میری آرزو کو کس رنگ میں پورا کرے گا اور کتنی دردناک قربانیوں میں سے مجھے گزرنا پڑے گا۔کہتی ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس حسرت کے ساتھ میری یہ خواہش دل سے نکلی جو ایک ہفتے کے اندر اندر حقیقت بن گئی۔۳۱ رمئی کی رات احمدیوں کے خلاف فسادات کا جوش تھا، ساری رات جاگ کر دعائیں کرتی گزرگئی ، اپنا دفاع کرتے رہے۔مجھے یہ وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ میرے شوہر اور بیٹے کے ساتھ یہ میری آخری رات ہے۔یکم جون کو جلوس نے حملہ کر دیا، عورتوں کو افضل نے ہمسائیوں کے گھر بھیج دیا اور خود باپ بیٹا گھر پر ٹھہر گئے کیونکہ اس وقت ہدایت یہی تھی کہ کوئی مرد اپنا گھر نہیں چھوڑے گا اور عورتوں اور بچوں کو بچانے کی خاطر ان کو بے شک محفوظ جگہوں میں پہنچا دیا جائے۔کہتی ہیں سارا دن شور بپار ہا اور حملہ ہوتا رہا۔توڑ پھوڑ کی آوازیں آتی رہیں مگر ہمیں کچھ پتہ نہ تھا کہ باپ بیٹے پر کیا گزری اور ظالموں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔رات ہمیں ایک اور گھر منتقل کر دیا گیا۔وہاں میں اپنے خاوند افضل صاحب اور بیٹے اشرف کا انتظار کرتی رہی۔رات گیارہ بجے مجھے بتایا گیا کہ دونوں باپ بیٹا شہید ہو گئے ہیں۔بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں بڑے دردناک طریقے سے مارا گیا تھا۔چھرے مارے گئے ، انتڑیاں باہر نکل آئیں، پھر اینٹوں سے سر کوٹے گئے۔اس طرح پہلے بیٹے کو باپ کے سامنے مارا گیا ، جب اس نوجوان بیٹے کو اس طرح پھل کھل کر مارا گیا تو پھر باپ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اب بھی ایمان لے آؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو گندی گالیاں دو۔