اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 372
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء نے لکڑی کا ایک تختہ گھر کی چھت سے آگے بڑھا کر ہماری چھت کے کنارے پر لگا دیا۔وہ باریک سا تختہ تھا عام حالات میں کسی کو جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ اس تختے پر چل کر وہ گلی پار کرے لیکن خدا نے ہمت دی۔وہ کہتی ہیں کہ نیچے سے شور بپا ہورہا تھا اور ہم ایک ایک کر کے اس تختے پر چلتے ہوئے دوسری ☆ منزل میں جا پہنچے۔ہیے پھر وہ ( راضیہ سید بنت سید احمد علی صاحب۔مرتب ) کہتی ہیں کہ نیچے بلوائیوں نے امی کو آواز دے کر کہا کہ کلمہ پڑھ لو ابھی بھی وقت ہے تو انہوں نے کہا ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ انہوں نے کہا مرزائن ! ہمارا کلمہ پڑھو۔انہوں نے کہا ہمیں تو اپنا کلمہ آتا ہے تمہار کلمہ کچھ اور ہے تو پتہ نہیں ہم تو یہی کلمہ جانتی ہیں۔پھر اس نے کہا کہ اچھا مرز اصاحب کو گالی دو۔بہن نے جواب دیا تم ہماری جان لے لو، ہمارا ایمان نہیں چھین سکتے۔محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کلمہ پڑھنا تھا تو خدا کی توحید کا اقرار کرنا تھا وہ ہم نے کر دیا ہے لیکن اس اقرار میں جو تعلیم ہمیں دی گئی ہے اس تعلیم کو ہم قربان نہیں کر سکتے اس لئے اب جو کچھ حاضر ہے ہم پیش کر رہے ہیں۔جو کچھ تم نے ہماری قربانی لینی ہے لے لو لیکن ہم کسی قیمت پر بھی حضرت مرزا صاحب کو جن کو ہم خدا کا سچا مرسل یقین کرتے ہیں ان کو گالی نہیں دیں گے۔یہ واقعہ جو ہے یہ اس چھت کا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک اور واقعہ شروع ہو چکا ہے اس لئے میں غلط فہمی دور کر دوں۔میں نے بھی جب پڑھا تو پہلے کے تسلسل میں پڑھا تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے نیچے سے کسی نے آواز دی ہے لیکن وہ واقعہ وہاں ختم ہو گیا تھا۔غالبا اس وقت کسی نیچے والے کی نظر نہیں پڑی کہ تیسری منزل پر ایک چھوٹا سا عبوری تختہ لگا دیا گیا ہے۔یہ ایک دوسرا واقعہ شروع ہو چکا ہے۔یہ مجمع کے گھیرے میں آئی ہوئی احمدی خواتین تھیں جو اپنی سرگزشت بتارہی ہیں ہم پر کیا گزری۔کہتی ہیں جب بہن نے یہ کہا کہ پھر جو کچھ کر سکتے ہوں کر گز رو مگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالی نہیں دیں گے۔اس پر ایک غنڈے نے بہن کو تھپڑ مارا اور دوسرے نے ڈنڈے برسائے۔اتنے میں ایک شخص نے کمانی دار چا تو پکڑا اور ابا جان کو کھینچ کر باہر لے جانے لگا اور کہنے لگا کہ یہی ان کا مربی ہے پہلے اسے ختم کرو۔بہن زخمی حالت میں بھاگ کر ساتھ والے مکان میں چلی گئی مگر وہاں کی خواتین نے یہ کہہ کر دھکے دے کر نکال دیا کہ اپنے ساتھ ہمیں بھی مرواؤ گی۔پھر وہ ایک اور مکان میں گئیں لیکن انہوں نے بھی پناہ دینے سے انکار کر دیا۔اس پر میری بہن نے اس مکان کے چھت سے پھلانگ کر گلی پار کی یعنی واپس اپنے مکان میں گئی ہیں اور پانچ فٹ کا فاصلہ تھا دونوں چھتوں کے درمیان۔تو عجیب