اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 374

حضرت خلیفہ مسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۷۴ خطاب ۳۰ ر جولائی ۱۹۹۴ء یہ ایمان ہے ان لوگوں کا۔آج تک میں نے کسی مذہب کی تاریخ میں ایمان کی نشانی یہ نہیں پڑھی کہ کسی اور کو گالیاں دو۔قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ بتوں کو بھی گالیاں نہ دو، جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو اس لئے یہ تو ظاہر وباہر ہے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مذہب اسلام نہیں تھا کسی اور کا مذہب تھا جس کی یہ پیروی کر رہے تھے۔افضل نے یہ جواب دیا اور یہ جواب ایک غیر احمدی کی طرف سے ہمیں پہلے پہنچا تھا جو موقع کا گواہ تھا اور وہ واقعہ دیکھ کر اپنے حواس کھو بیٹھا تھا۔شامل تو تھا مجمع میں لیکن اس کے دماغ پر ایسا اثر پڑا کہ کئی مہینے تک پاگل رہا۔پھر رفتہ رفتہ اسے ہوش آئی۔جب صدمہ برداشت کیا تو اس نے احمدیوں کو بتایا کہ مجھے کیا ہوا تھا۔کہتا ہے میں نے یہ واقع اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔جب افضل کی طرف رخ کیا اور اسے کہا کہ اپنا ایمان چھوڑ دو اس نے کہا تم مجھے اپنے بیٹے سے بھی کمزور ایمان والا سمجھتے ہو۔جس نے میرے سامنے اس بہادری سے جان دی ہے۔جب آخر وقت تک سکتے ہوئے وہ پانی مانگ رہا تھا تو گھر پر جو عمارت کے لئے ریت پڑی تھی وہ اس کے منہ میں ڈالی گئی اور باپ نے یہ نظارہ دیکھا۔اس نے کہا جو چاہو کر لواس سے بدتر سلوک مجھ سے کرومگر میں اپنے ایمان سے متزلزل نہیں ہوں گا۔اس پر ان کو اسی طرح نہایت ہی درد ناک عذاب دے کر شہید کیا گیا اور پھر ان کو نگا کر کے ان کی نعشیں تیسری منزل سے اپنے گھر سے نیچے پھینک دی گئیں اور سارا دن کسی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ ان نعشوں کو اُٹھا سکے۔یہ وہ بربریت ہے جس کو یہ بد بخت لوگ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اس سے بڑی بے حیائی اسلام کے نام پر شاید کبھی نہ کی گئی ہو۔محمد رسول اللہ کی طرف اُسوہ منسوب کرتے ہوئے یہ بدکارانہ سلوک ، یہ وحشیانہ سلوک، جو نبیوں کے دشمنوں نے ان سے کیا ہے کم کیا ہے۔پرستار تھے۔دیکھتی ہیں لوگ ان پر پتھر برساتے رہے ، لاشیں ٹھیٹتے پھرتے تھے۔یہ لوگ اسلام کے چوہدری منظور احمد صاحب بھی گوجرانوالہ ہی میں شہید ہوئے۔ان کی بیوہ محترمہ صفیہ صدیقہ صاحبہ بھتی ہیں کہ جون ۱۹۷۴ء میں جب حالات خراب ہوئے تو پولیس میرے بیٹے مقصود احمد کو ایک مولوی کے کہنے پر دوکان سے گرفتار کر کے لے گئی اور حوالات میں بند کر دیا۔اگلے دن جلوس نے گھروں پر حملہ کر دیا۔عورتوں کو ایک احمدی گھر جو بظاہر محفوظ تھا پہنچادیا گیا۔شام تک ہمیں گھر کی کوئی خبر