اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 371

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۷۱ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء گولیاں چل رہی تھیں ، دروازے ٹوٹنے کی آواز میں آرہی تھی ، ہم اپنے کمزور ہاتھوں سے دروازوں کو تھامتے رہے، اس وقت ہماری حالت یہ تھی کہ ہم کہہ نہیں سکتے تھے کہ ہم دنیا کو دوبارہ دیکھ سکیں گے۔ہاتھ پاؤں پر رعشہ طاری تھا ایسی ایک کیفیت تھی کہ بیان سے باہر ہے۔اچانک مردوں کی جانب کا دروازہ ٹوٹا جہاں محمود صاحب اور ان کے نوجوان بھانجے اشرف صاحب تھے۔چندلمحوں کے بعد ان کی آوازوں سے پتہ چلا کہ وہ ماموں اور بھانجا خاک و خون میں لتھڑے ہوئے تڑپ رے ہیں۔ایسا منظر تھا کہ کلیجہ منہ کو آتا تھا۔اشرف محمود صاحب کی ٹانگ سے خون کے فوارے بہہ رہے تھے ان کی اہلیہ صاحبہ چھت پھلانگ کر اپنے غیر احمدی عزیز کے ہاں گئیں اور کہا کہ ہمارے گھر میں گولیاں برسائی جارہی ہیں۔میرا میاں اور ان کا بھانجا سخت زخمی حالت میں تڑپ رہے ہیں آپ کچھ مددکریں مگر ان کا جواب تھا تمہارے ساتھ ہم کیوں جانیں گنوائیں۔حملہ آور تو چلے گئے مگر زخمیوں کی چیخوں سے اور در دو کراہ سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ آسمان تھرا رہا ہے۔ان کی یہ حالت دیکھ کر ہمارے ضبط کے بندھ ٹوٹ گئے ہم نے ان کے منہ میں پانی ڈالا۔فون پر پولیس سے رابطہ کیا صورت حال سے ان کا آگاہ کیا۔پولیس تو ایسی غائب ہوئی کہ جیسے ڈھونڈے سے ان کا نشان نہ ملے اور صرف دعا ئیں تھیں جو ہمارا سہارا بنیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہم کسی طریق سے ان کو ہسپتال پہنچانے میں کامیاب ہو گئے اور خدا کا یہ فضل ہوا کہ محمود صاحب جو آج کل انگلستان کی جماعت میں ہیں بریڈ فورڈ جماعت میں رہتے ہیں ایک ٹانگ ہے ان کی وہ اس واقعہ کے ایک زندہ گواہ ہیں۔عمار حکیم نظام جان صاحب کے بچوں کے گھر کو جب آگ لگائی گئی تو سب اہل خانہ نچلی منزل پر تھے جو دوسری منزل پر چلے گئے۔جلوس نے یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا دوسری منزل کو بھی آگ لگادی۔باہر نکلنے کے راستے بند تھے، سڑک پر ہزاروں کا مجمع سخت گندی گالیاں دیتا ہوا اور جوش سے منہ سے جھا گیں نکالتا ہوا، ان کو موت کی دھمکیاں دیتا ہوا ، شور و غوغا کر رہا تھا اور عجیب خوفناک آواز میں وہاں سے آرہی تھیں۔پھر یہ لوگ تیسری منزل پر جا پہنچے تو تیسری منزل بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔اب نیچے اترنے کے لئے کوئی راستہ نہ تھا اور آگ بڑی تیزی سے پھیل رہی تھی۔بچے سہم سہم کر بڑوں سے چھٹے ہوئے تھے اور ہمارے پاس دعا کے سوا اور کوئی آسرا نہ تھا۔نیچے گلی میں ہجوم منتظر تھا کہ کب یہ جل کر خاک ہو جائیں اور ان کے ملبے کے ساتھ ان کی جھلسی ہوئی لاشیں بھی زمین پر آگریں۔کہتے ہیں اس موقع پر سامنے کے گھر والوں کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف مائل فرما دیا اور انہوں