اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 370

حضرت خلیفہ مسیح الرابع سے مستورات سے خطابات ۳۷۰ ☆ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء مگر راضی برضا ر ہنے کے لئے بھی تو اللہ کی مدد کی ضرورت ہے۔صبر اختیار کرنے کے لئے بھی اسی سے توفیق ملتی ہے اس لئے ہر آئندہ وقت کے لئے ابھی سے امن کے زمانوں میں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اگر اللہ کسی آزمائش میں ڈالنے کا فیصلہ فرمالے تو پھر ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہمارے سر اس کے حضور خم رہیں اور دل ہر حال میں راضی برضا ر ہے اور ہمیں صبر کے اعلیٰ نمونے پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہاں تک کہ خدا کی تقدیر ہمارے حق میں کہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔سید احمد علی صاحب کی بیٹی نفیہ لکھتی ہیں کہ گوجرانوالہ میں بپھرے ہوئے ہجوم اور مولویوں کے جلوس نے بہت تباہی مچائی ، گھروں کو جلایا ، پتھراؤ کیا۔اس فساد میں ہم چار بہنیں اور امی جان حیران و پریشان چھت پر چڑھیں تو اچانک جلوس کی ایک ٹولی ہمارے گھر کی طرف بڑھی اور کہنے لگی یہ مرزائیوں کے مربی کا گھر ہے پہلے اسے آگ لگاؤ۔بھائی سید ولی احمد صادق اور میرے ابا جان مربی سلسلہ دونوں ہی مسجد میں تھے اور مسجد دشمنوں کے گھیرے میں تھی اس لئے ان کے آنے کی بھی کوئی امید نہ تھی مگر کسی طرح ہماری فکر میں وہ مسجد سے نکل آئے اور ہم چاروں بہنوں کو ایک قریبی احمدی محمود احمد صاحب امینی کے گھر چھوڑ آئے۔یہ عشاء کے قریب کا وقت تھا۔جب چاروں بہنیں امینی صاحب کے گھر پہنچیں تو دیکھا کہ دیگر احمدی گھروں کی لڑکیاں اور عورتیں بھی وہاں موجود تھیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم چھت پر بیٹھ کر ایمان کی سلامتی اور احمدیت کی ترقی کے لئے دعائیں کیا کرتی تھیں۔یعنی ان دنوں میں سب سے بڑی فکر ایمان کی سلامتی کی تھی اور پھر احمدیت کی ترقی کا فکر تھا جو ان کو اس وقت خدا کے حضور گریہ وزاری کرنے پر آمادہ کر رہا تھا۔کسی اور ذاتی منفعت کا کوئی خیال ان کے دل سے نہیں گزرا۔یکم جون کو تقریباً صبح کے پونے چار بجے پانچ رائفل بر دارا مینی صاحب کے گھر کی چھت پر آگئے جنہیں دیکھتے ہی مرد اور عورتیں چوبارہ کے کمروں میں چلی گئیں۔کمرے صرف دو تھے ایک میں مرد اور ایک میں عورتیں جمع ہو گئیں۔حملہ آور سر پر آپہنچے ، ان کی رائفلیں شعلے برسانے لگیں۔آہ وفغاں کا ایک شور بلند ہوا اور ہماری چشم تصور میں ۱۹۴۷ء کا منظر گھوم گیا جب سکھ پنجاب میں مسلمانوں کو اس طرح ظلم کے ساتھ تہہ تیغ کر رہے تھے مگر وہ تو غیر مسلم تھے۔وہ دن اور تھے جبکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور سکھوں میں سیاسی مخالفت کی وجہ سے ایک جنون کا دور تھا، دونوں طرف ہی مظالم ہورہے تھے مگر آج ایک ایسا دور تھا کہ آزاد پاکستان میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خون سے ہاتھ رنگ رہا تھا۔