اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 349
حضرت خلیلة امسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۴۹ خطاب ۱ارستمبر ۱۹۹۳ء اُٹھا کر اپنے گھونسلے میں جمع کرتی ہیں اور پنجاب میں خصوصیت کے ساتھ یہ تجر بہ عام ہے کہ چیلوں کے گھونسلوں میں چمکتی ہوئی چیزیں خصوصاً چاندی کی چیزیں نظر آ جاتی ہیں۔تو عین ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے تصرف نے صبح سویرے چاندنی کی روشنی میں کسی چیل کو جگادیا ہو اور وہ اپنی چونی لے کر چل پڑی ہوا اور عین اس جگہ جا کے گری جہاں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی والدہ لوٹا لے کر نکل رہی تھیں اور لوٹے سے ٹکرائی تاکہ ان کو پتہ لگ جائے کہ رات جو پیغام تھا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اس چونی کو انہوں نے پھر اپنے پاس تبر کا کچھ دیر کے لئے رکھ بھی لیا۔آج کل کے زمانے میں آتے ہوئے میں نے ہدایت کی تھی کہ کچھ نو مبائعین احمدی خواتین کے واقعات بھی اکٹھے کریں لیکن افسوس ہے کہ وقت کم تھا اس لئے صرف امریکہ سے ایک واقعہ کی اطلاع ملی حالانکہ میں جانتا ہوں مجھ سے کئی دفعہ ملاقات کے وقت بھی اور خطوں کے ذریعے بھی نومبائعین یورپین یا امریکن خواتین نے اپنے روحانی تجربوں کا ذکر کیا ہے اور ایسے رویا بتائے ہیں جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ان سے ایک زندہ تعلق قائم ہو گیا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وقت کی کمی کی وجہ سے وہ واقعات اس وقت اکٹھے نہیں ہو سکے۔صرف ایک واقعہ شکور یہ نوریہ نے یونائیٹڈ سٹیٹس (امریکہ ) سے جو لکھا تھا وہ میرے سامنے ہے وہ کہتی ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد خواب میں دیکھا کہ مشن ہاؤس گئی ہوں بہت سی خواتین اور بچیوں نے میرا استقبال کیا ہے۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے تو انہوں نے کہا جنت ہے اور ہم سب آپ کا گھر سجانے آئی ہیں۔اس کے بعد مجھے اپنا گھر شفٹ کرنا پڑا ارادہ نہیں بلکہ مجبورا اور جو نیا گھر ملاوہ مسجد کے پاس ملا اور اس کے بعد نیا گھر سجانے کے لئے احمدی خواتین اور بچیاں اکٹھی ہو گئیں اور میرا گھر سجا دیا۔تو جنت سے مراد یہ ہے ایسا - گھر جو جنت نشاں ہو جہاں اللہ کی باتیں ہوتی ہوں۔جہاں خدا کے تعلق کے نشان ملتے ہوں۔سکینہ بی بی صاحبہ اہلیہ نورمحمد صاحب دار الرحمت وسطی ربوہ بیان کرتی ہیں کہ گوجرانوالہ میں ایک مولوی پاس والی مسجد میں بہت بد زبانی کیا کرتا تھا۔ایک دن آپ نماز تہجد پڑھ رہی تھیں کہ اس نے لاؤڈ سپیکر پر احمدیوں کے خلاف جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا۔وہ کہتی ہیں میں نے روروکر اللہ سے دُعا کی اللہ آج ان ظالموں سے بچالے۔ابھی سجدے میں ہی تھی کہ اچانک اس نے اعلان کیا کہ یہ جلوس ملتوی کیا جاتا ہے کیونکہ میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے اور ابھی مجھے خبر ملی ہے اس لئے میں اپنے گاؤں جار ہا ہوں تو ادھر دُعا کی اور ادھر فوری طور پر اس کی قبولیت کا نشان ظاہر ہوا حالانکہ ہارٹ اٹیک ان کی