اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 348
حضرت خلیفتہ اسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۴۸ خطاب ار ستمبر ۱۹۹۳ء صالحہ بی بی کی روایت ہے۔ان کے متعلق ہے کہ یہ بہت تہجد گزار رو رو کر دعائیں کرنے والی اور بچے رؤیا کشوف اور الہامات کی حامل تھیں۔ان کو اللہ تعالیٰ عطا فرما تا تھا۔یہ کہتی ہیں کہ قادیان میں ایک دفعہ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب کی کوئی رقم تھی جو انجمن کے پاس تھی اور وہ معاملہ طے نہیں ہور ہا تھا اور ان کو بہت پریشانی تھی۔تو رویا میں ان کو بتایا گیا کہ ہمارے گماشتے سے کہو۔اب گماشتے کا اس کا ترجمہ بھی نہیں آتا تھا۔یہ لفظ نہیں سنا تھا تو بعد میں جب پتہ چلا تو معلوم ہوا کہ ہمارے نمائندے سے کہو۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ نے وہ معاملہ دیکھا اور فوراً اس رقم کے ادا کرنے کا ارشاد فرما دیا۔تو بعض الہامات اور رویا میں ایسے الفاظ دکھائے جاتے ہیں جن کو دیکھنے والا یا سننے والا جانتا نہیں ہے اور اُن الفاظ کی لاعلمی کی وجہ سے رؤیا کے اندر اس کی اپنی صداقت کا نشان موجود ہوتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ اسد اللہ خاں یعنی چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے چھوٹے بھائی کہتے ہیں جب چھوٹی عمر کا تھا اس سے سلیٹ گم ہوگئی یا ٹوٹ گئی اور والدہ صاحبہ اس سے بہت خفا ہوئیں کہ ہر چند دن کے بعد نئی سلیٹ لیتے ہوا سے تو ڑ دیتے ہو یا گم کر دیتے ہو۔والدہ صاحبہ کے خفا ہونے سے وہ بہت سہم گیا اسی رات والدہ نے رویا میں دیکھا کہ ایک نہایت نورانی شکل سفید پوش بزرگ فرمارہے ہیں۔آپ نے ایک چار آنے کی چیز ضائع ہو جانے پر ہمارے بندے پر اس قدر غضب کا اظہار کیا۔یہ لیجئے چار آنے میں دے دیتا ہوں اور انہوں نے ایک چمکتی ہوئی چونی والدہ صاحبہ کے ہاتھوں میں تھمادی۔والدہ صاحبہ بیدار ہوئیں تو فجر ہونے کو تھی۔لوٹے میں پانی لے کر وضو کے لئے اوپر کی منزل پر گئیں۔چاندنی ہو رہی تھی۔جب چھت پر آسمان کے نیچے پہنچی تو کوئی چمکتی ہوئی چیز تیزی سے آسمان سے گرتی ہوئی دیکھی وہ چیز ان کے لوٹے کے ساتھ آکر ٹکرائی اور ٹکرانے کی آواز ایسی تھی کہ گویا یہ چیز کوئی چاندی کی یا کسی اور دھات کی چیز ہے۔یہ زمین پر گر گئی۔والدہ صاحبہ نے اسے اُٹھالیا اور دیکھا کہ وہ ایک چمکتی ہوئی چونی ہے۔والدہ صاحبہ نے اسے تبرک کے طور پر جیب میں ڈال لیا۔کچھ دن تو اسے احتیاط سے الگ سنبھالے رکھا لیکن چند دن کے بعد وہ گم ہو گئی۔اس ضمن میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے تصرف کے تابع بعض ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ جن سے اگر چہ مادہ نیا وجود میں نہیں آتا لیکن بعض چیزیں اس تصرف کے تابع عین وقت کے اوپر نمودار ہو جاتی ہیں۔چیلوں میں یہ عادت ہے کہ وہ چمکتی ہوئی چیزیں خصوصاً چاندی کی چیزیں