اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 347
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۴۷ خطاب اار ستمبر ۱۹۹۳ء جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ایسی بہت کثرت سے مثالیں ہیں جن کے اندر صداقت کے نشان چھپے ہوئے ہیں اور جب تعبیر کھولی جائے تو پھر یقین ہو جاتا ہے کہ یفس کی رؤیا نہیں ہے مگر چونکہ مجھے خود وقت نہیں مل سکا کہ اپنی پرانی ڈاک میں سے چھان بین کر کے ایسے واقعات نکالتا اس لئے جو چند واقعات میرے سامنے رکھے گئے انہی پر اکتفا کرتا ہوں۔اب کچھ اور قسم کی رؤیا ہیں کچھ اور قسم کے شواہد ہیں ان کی مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ہماری ہمشیرہ صاحبزادی امتہ الرشید بیگم میاں عبدالرحیم احمد صاحب سھتی ہیں۔تابعین اصحاب احمد جلد سوم میں یہ روایت درج ہے کہ موسم گرما کے ایک رمضان شریف میں، یہ قادیان کی بات ہے پرانے زمانے کی ایک رات نا قابل فراموش ہے۔ہم سب بچوں کی چار پائیوں کے بچھنے کے بعد بہت تھوڑی سی جگہ بچتی تھی وہیں آپا جان اور عائشہ پٹھانی اہلیہ حضرت مولوی غلام رسول صاحب پٹھان معمولاً تہجد میں درد بھری دعائیں کر رہی تھیں۔آپا جان سے مراد میری والدہ ہیں۔کہتی ہیں میں نے دیکھا کہ چندھیا دینے والی روشنی سے ہمارا صحن منور ہو گیا ہے۔مجھے خیال آیا کہ یہ لیلۃ القدر کی روشنی ہے۔میں نے لیٹے لیٹے شور مچا دیا کہ میرے لئے دعا کریں۔عائشہ پٹھانی نے بعد میں بتایا کہ یہ روشنی مجھے بھی نظر آئی تھی اور میں اس وقت میاں طاہر کے لئے دعا کر رہی تھی۔آپا جان کہتی تھیں کہ رشید کے بولنے نے مجھے سب کچھ بھلا دیا اور میں نے اپنی بیٹی رشید کے لئے دُعا کرنی شروع کر دی میں بھی یہ روشنی دیکھ رہی تھی جو چند سکینڈ رہی۔پس اس نظارے میں تینوں برابر شامل ہوئے اور اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ کوئی نفسیاتی کیفیت نہیں تھی بلکہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشنی کا نشان دکھایا گیا تھا۔مائی روڑی صاحبہ ایک چوڑیاں بیچنے والی خاتون تھیں بہت نیک دعا گو اور صاحب رؤیاء وکشف تھیں۔آپ سیالکوٹ کی رہنے والی تھیں وہ بتاتی ہیں کہ ایک دفعہ میں سیڑھیوں کے ساتھ والے کمرے میں اپنی چوڑیوں کی گٹھڑی کھول کر بیٹھ گئی۔یعنی مسجد سیالکوٹ کے ساتھ سیڑھیوں کے پاس جو چھوٹا سا کمرہ تھا اتنے میں آپ کو آواز آئی کہ جیسے ان سے کوئی کہہ رہا ہے یہاں سے اُٹھ جا۔آپ نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔دوسری دفعہ پھر آواز آئی تو آپ نے سوچا کہ ابھی اُٹھ جاتی ہوں لیکن تیسری دفعہ اس زور سے آواز آئی کہ آپ کہتی ہیں میں نے گھبرا کر اپنی چیز میں اُٹھا ئیں اور فورا باہر آ گئی۔جیسے ہی کمرے سے باہر قدم نکالا اس کمرے کی چھت گر گئی۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس نیک خاتون کی حفاظت فرمائی اور الہاما اس کو اس جگہ چھوڑنے کی تلقین فرمائی۔