اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 329
حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات ۳۲۹ خطاب ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۹۳ء نوراللہ مرقدھا کے پیچھے اس طرح کھڑے ہیں کہ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان میں ہوں۔اور آپ مجھے دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔جب حضرت ام ناصر نے فرمایا کہ تمہیں علم نہیں کہ آج ناصر دولہا بنا ہے تو ساتھ ہی مرزا طاہر احمد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس کے بعد ان کی باری ہے اس کے بعد میں چھوٹی آپا کے گھر جاتی ہوں وہاں جا کر دیکھا کہ سب لوگ وہاں جمع ہیں اور کھانے کا اہتمام ہے۔امتہ الرشید بیگم صاحبہ دارالبرکات ربوہ سے لکھتی ہیں کہ خدائے قدوس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے عرض کرتی ہوں کہ آج سے تقریباً بیالیس برس پہلے سن چالیس اکتالیس کی بات ہے۔(یعنی یا درکھیں کہ پارٹیشن سے بہت پہلے کا چالیس اکتالیس کا واقعہ ہے ) میں نے ہاتف غیبی کی نہایت صاف اور بڑی اثر انگیز آواز سنی۔خلیفہ ایسیح حضرت میاں طاہر احمد صاحب ہوں گے۔میرے مرحوم میاں ان دنوں انبالہ چھاؤنی میں ریلوے میں ملازم تھے۔(میں اپنے نام کے ساتھ یہ لفظ ، عزت کے یہ القاب پڑھنا پسند نہیں کرتا مگر یہ رویا کی امانت ہے چونکہ اس لئے مجبوراً اسی طرح پڑھ کر سنانا پڑا ہے ) انہیں میں نے یہ بات بتا کر اپنے محبوب امام حضرت مصلح موعودؓ کی بارگاہ میں بذریعہ ڈاک سب واقعہ لکھ کر بھیجا جس کا جواب حضور کی طرف سے یہ موصول ہوا کہ خلیفہ کی موجودگی میں ایسے رویا و کشوف صیغہ راز میں رہنے چاہئیں۔اور تشہیر نہیں کرنی چاہئے۔چنانچہ خلافت ثالثہ کے قیام کے موقع پر میں یہی کبھی کہ شاید میاں طاہر احمد صاحب سے مراد یہ ہے کہ ایسا خلیفہ عطا ہو جو طا ہرا اور مطہر ہو، اب حضور کا انتخاب ہوا تو معاملہ صاف ہو گیا۔خدا کا کہنا پورا ہوا۔روح جھوم اُٹھی۔الحمد لله ثم الحمدللہ۔اس میں ان کی لمبی زندگی کی بھی عملاً پیشگوئی تھی کہ اس زمانہ تک زندہ رہیں گی کہ اپنی آنکھوں سے اس رویا کو پورا ہوتا دیکھ لیں۔اس رویا کا خصوصیت سے میں نے اس لئے انتخاب کیا ہے کہ ایسی رؤیا اب بھی احمدی خواتین کو مردوں اور بچوں کو بھی آتی ہیں یہ خلیفہ وقت کی امانت ہوتی ہے اسے اپنے ماحول میں گردو پیش میں بیان نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بعض رؤیا بعض خاص علامتیں رکھتی ہیں۔جن کو ہر کس و ناکس نہیں پڑھ سمجھ سکتا اور بعض دفعہ اس سے غلط فہمیاں پھیلتی ہیں بعض دفعہ فتنے پرورش پاتے ہیں اس لئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی اس ہدایت کو یا درکھیں آپ نے فرمایا کہ اس کی کوئی تشہیر نہیں کرنی چاہئے اور اشارہ بھی انہوں نے بعد میں اپنی زندگی میں اس کا ذکر نہیں کیا اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پوری ہوئی تب انہوں نے یہ واقعہ لکھ کر بھجوایا۔صالحہ بیگم صاحبہ دختر حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب اپنا ایک خواب بیان کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ