اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 311
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء حضرت محمد ﷺ کو بھی تو غم پہنچے تھے آپ تو آزمائشوں میں مبتلا کئے گئے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ لکھا کہ جتناد کھ آنحضرت علیہ نے برداشت کیا دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔لیکن یہ دکھ خدا کی محبت نے آسان کر دیا اس نے توفیق بخشی۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقره: ۱۱۳) کا مطلب یہ ہے کہ جو خدا کے دوست ہو جاتے ہیں۔وہ دکھوں سے مغلوب نہیں کئے جاتے وہ خوف سے مغلوب نہیں ہوا کرتے۔بڑے خوف کے وقت بھی ان کا سر بلند رہتا ہے اور ان کی ہمتیں ٹوٹتی نہیں ہیں پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کردار کا آپ خوف کی مختلف حالتوں میں مطالعہ کریں۔سب سے بڑا جو خوف تھا وہ وقت تھا جب آپ صرف حضرت ابو بکڑ کے ساتھ ایک خونخوار قوم سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہ ایسی خونخوار قوم تھی۔جس نے مل کر یہ عہد باندھے تھے اور تمام قبیلے اس عہد میں شامل ہوئے تھے۔کہ اب ہم محمد کو زندہ نہیں چھوڑیں گے اور حضرت محمد کے خاندان کے لوگ بھی اس عہد میں شامل تھے ایسی حالت میں اس صحراء کا سفر تھا جس میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں کچھ فاصلہ پر ایک پہاڑی میں ایک غارتھی غار ثور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس غار میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی حضرت ابو بکر پناہ لینے کے لئے اور ستانے کے لئے ٹھہرے تو انھوں نے ٹاپوں کی آواز سنی۔باتوں کی آواز سنی۔دشمن وہاں تک پہنچ چکا تھا اور کھو جی جو کھوج لگاتے ہیں اور قدموں کے نشان دیکھ کر چلتے ہیں وہ یہ بتارہے تھے کہ اگر محمد اور اس کا ساتھی یہاں نہیں ہیں تو پھر زمین نکل گئی ہے یا آسمان کھا گیا ہے ہم اپنے علم کے مطابق کہتے ہیں کہ لازم نہیں ہے۔لیکن آنحضرت نے حضرت ابو بکر کی طرف دیکھا تو انھوں نے بے چینی محسوس کی اور خوف محسوس کیا اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ رسول اللہ کے لئے وہ فکر مند ہو گئے قرآن کریم فرما تا ہے کہ آنحضرت نے انھیں مخاطب کر کے فرمایا کہ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبہ: ۴۰)۔کوئی خوف نہ کرو کوئی غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے سامنے دشمن تھا اس کے قدم دکھائی دے رہے تھے۔کھڑا باتیں کر رہا تھا اور وہ ماہر قدموں کے نشان لینے والے بڑی تکرار اور زور کے ساتھ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ نہیں ہے وہ یہیں ہے لیکن خدا تعالی کی تقدیر دیکھیں کہ جو جانور دنیا کا سب سے کمزور جانور ہے جس کے گھر کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا کہ اَوهَنَ الْبُيُوتِ (العنکبوت :۴۲) اس سے کمزور جالہ کسی اور جانور کا نہیں اس جانور سے کمزور ترین گھر نے آنحضرت ﷺ کو پنادے دی وہ جالہ تنا ہوا تھا اور دیکھنے والے کہہ رہے تھے کہ اگر اس میں داخل ہوئے ہوتے تو یہ جالہ کیوں نہ ٹوٹا ہو تا۔اس لئے یہاں اندر