اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 310

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۱۰ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء ان کی اس ماحول سے حفاظت کرے گی۔وہ لق و دق صحراء جو آپ کے اردگرد ہے وہ خدا کے فقدان کا یعنی خدا سے تعلق کے فقدانی کا صحراء ہے اور بہت سے یہاں ایسے دلچسپیوں کے سامان ہیں جو بچوں کے دلوں کو خدا کی طرف سے پھیر کر دنیا کی طرف مائل کرتے ہیں اگر بچپن ہی میں آپ نے ان کی حفاظت نہ کی تو بڑے ہو کر وہ آپ کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے۔بچیوں کے لئے خصوصیت کے ساتھ بہت فکر دامن گیر رہتا ہے۔یہاں کا معاشرہ یعنی سارے مغرب کا معاشرہ ایسا خطر ناک ہو چکا ہے کہ اب اہل مغرب بھی خود آئندہ کے تصورات سے لرزتے ہیں۔اور مختلف مضامین کے ذریعے اس بے چینی کا اظہار ہوتا ہے بعض دفعہ ٹیلی ویژن پر بھی ایسے پروگرام آتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کی عائلی زندگی تباہ ہو چکی ہے۔آزدای کے نام پر سب کچھ ہورہا ہے حالانکہ حقیقت یہ کہ آزادی کا دوسرا نام شیطان کی غلامی ہے اور یہ غلامی پھر قوموں کو تباہ کر کے رکھ دیا کرتی ہے۔حقیقی آزادی صرف ایک زنجیر پہننے کا نام ہے وہ اللہ کی محبت کی زنجیر ہے اگر آپ خدا کی زنجیر میں جکڑے جائیں تو آپ دنیا کی ہر دوسری چیز سے آزاد ہو جائیں گے۔ہر دوسرا خوف باطل ہو جائے گا۔ہرامید خدا سے وابستہ ہو جائے گی ہر غیر اللہ سے آپ کو بے نیازی نصیب ہوگی پس وہ لوگ جو بعض دفعہ یہ سوچتے ہیں کہ خدا تو بے نیاز ہے ہم کیسے بے نیاز ہو سکتے ہیں ان کو میں بتا تا ہوں کہ خدا کی ہر صفت ایک خاص رنگ میں انسان اختیار کر سکتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ: صِبْغَةَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً " (البقره: ۱۳۹) اللہ کے رنگ اختیار کرنے کے لئے ہیں۔پس اللہ کے رنگ سے بہتر کونسا رنگ ہو سکتا ہے۔پس آپ نے اگر خدا کے معنوں میں بے نیاز ہونا ہے تو خدا سے تعلق جوڑ لیں پس تمام دنیا کی دوسری چیزیں بالکل ثانوی اور بے معنی اور چھوٹی سے دکھائی دینے لگیں گی تو جو شخص خدا سے تعلق جوڑے اس کو دنیا کا کوئی خوف نہیں رہتا لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة :۱۱۳) کا جو وعدہ قرآن کریم میں کیا گیا ہے وہ اولیاء اللہ کے متعلق ہے اور اس کی مختلف شکلیں قرآن کریم میں ملتی ہیں لیکن اولیاء اللہ کے متعلق فرمایا خصوصیت کے ساتھ اللہ کے بندے جو اللہ کے دوست بن جاتے ہیں وہ ہر خوف اور ہر غم سے آزاد ہو جاتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ کی محبت کے نتیجہ میں اللہ کا دوست بننے کے نتیجہ میں ان کو غم نہیں آتا وہ آزمائشوں میں مبتلا نہیں ہوتے۔