اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 312
۳۱۲ خطاب ۱۷ مرا کتوبر ۱۹۹۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات کوئی نہیں گیا۔اور اتنی توفیق ہی نہ ملی کہ آگے بڑھ کر جھانک کر دیکھ لیں۔تو جو اہل اللہ ہیں ان پر کوئی خوف نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ خوف کے مقامات تو آتے ہیں۔لیکن خوف سے مغلوب نہیں ہو جایا کرتے۔پس ایک ہی پناہ ہے جو اللہ کی پناہ ہے ایک ہی پناہ ہے جو خدا کی محبت کی پناہ ہے۔اپنے بچوں کے دل میں شروع سے ہی خدا کی محبت پیدا کر دیں پھر دیکھیں کہ دنیا کا کوئی فسادان پر غلبہ نہیں پاسکے گا۔بچپن میں بھی کمزوریاں ہوتی ہیں جوانی میں بھی انسان سے لغزشیں ہو جاتی ہیں مگر جو حقیقتاً خدا سے پیار کرنے والے ہوں ان سے خدا بخشش کا سلوک اس طرح فرماتا ہے ان کو غلطی کی حالت میں مرنے نہیں دیتا بلکہ موت سے پہلے لازماً ان کو تو بہ اور اصلاح کی توفیق بخشتا ہے اور ہوا سوقت جان دیتے ہیں حب امن میں آجاتے ہیں اور اس معاشرے میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہر بچہ ہر لغزش سے محفوظ رہے گا لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ اگر مائیں ان کے دل میں بچپن ہی سے جیسے کہتے ہیں کہ دودھ میں خدا کی محبت پلائیں۔اگر بچپن ہی سے ان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کر دیں تو خدا تعالیٰ سے فضل کے ساتھ وہ بچے کبھی ضائع نہیں ہو سکتے۔دوسری نصیحت جو بچوں کو سنبھالنے کے لئے ہے وہ یہ ہے کہ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں اور سر بلندی پیدا کریں پچپن ہی سے ان کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ جس معاشرے میں تم پل رہے ہو یہ معاشرہ تمہار احتاج ہے تم پر اس معاشرے کی نگا ہیں ہیں اگر تم نے اس کو بچالیا تو بچے گا ورنہ کوئی اور چیز اس کو بچانہیں سکتی۔دن بدن اس معاشرے کا ہر قدم تباہی کی طرف اٹھ رہا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ گھر بربادہور ہے ہیں اور گھروں سے امن اٹھ گیا ہے اس حد تک اٹھ گیا ہے کہ معصوم بچیاں اپنے باپوں سے محفوظ نہیں معصوم بچے اپنے باپوں اور بڑوں سے محفوظ نہیں ہیں۔اور ( Child Abuse) ایک ایسی وباء بن گئی ہے کہ وہ گھر سے گھر منتقل ہوتی چلی جارہی ہے اور محفوظ انداز ہ لگانے والے اندازہ لگاتے ہیں کہ بعض شہروں میں ہر تیسرے گھر میں (Child Abuse) ہو رہی ہے تو ایک امن کی جگہ سکون کی جگہ گھر ہوا کرتا تھا اگر گھر سے سکون اٹھ جائے اور وہ جن کو بچوں کا نگران بنایا جاتا ہے خدا کی طرف سے اور فطرت کی طرف سے وہ بچے امن لوٹنے لگ جائیں تو پیچھے کیا ر ہے گا۔(Child Abuse) کو چھوڑ بھی دیں تو وہ معاشرہ جو دنیا کی لذت میں منہمک ہو جس کا دن اور رات ایک نئی لذت کی تلاش میں ایک نئے Pop Song کے انتظار میں گزرتا ہو اس معاشرے میں لوگوں کو ہوش ہی نہیں ہوتی کہ بچوں کی طرف کماحقہ توجہ دے سکیں جہاں زندگی کے معیار