اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 276

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے ستورات سے خطابات ۲۷۶ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء تک ، بشارت بیگم صاحبہ اہلیہ ملک غلام بنی صاحب پونے تیرہ سال اور شاہدہ صاحبہ اہلیہ منصور بشیر صاحب ساڑھے گیارہ سال۔باقی چوں کہ سینکڑوں مبلغین ہیں۔سینکڑوں بیویاں ہیں جنہوں نے جدائی میں مختلف وقت کاٹے ہیں ان کی ساری قربانیوں کا تذکرہ تو ممکن ہی نہیں ہے یہ چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔کس جذبے کے ساتھ ، کس ولولے کے ساتھ ماؤں نے اپنے بچے پیش کئے تھے۔اور ان کی جدائیاں برداشت کیں۔ان کا بھی ذکر بڑا طویل ہے۔ابھی تو آپ نے بیویوں کی قربانیاں سنی ہیں۔ماؤں کا بھی یہی حال تھا۔ایک آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مقبول احمد صاحب ذبیح ایک لمبے عرصے تک باہر تھے، ان کی والدہ جنہوں نے ۸۳ء میں وفات پائی ہے وہ بستر مرگ پر تھیں۔اپنی بیماری کے دنوں میں وہ اپنے بیٹے مقبول احمد ذبیح کو بہت یاد کیا کرتی تھیں۔اس سے متاثر ہو کر ان کے دوسرے عزیزوں نے ایک دن عرض کیا کہ ہم حضور اقدس کی خدمت میں درخواست کریں کہ ابا جان کو بلا لیا جائے تو فرمایا نہیں! میں نے اپنے بیٹے کو وقف کیا ہے۔میں یہ مطالبہ کر کے وقف کی روح کے خلاف نہیں کرنا چاہتی۔جب حضور خود چاہیں گے بلا لیں گے۔بلکہ اپنی بیماری کی بھی مجھے اطلاع نہیں دی تا کہ ان کی وجہ سے میری پریشانی سلسلہ کے کاموں میں روک نہ بن سکے۔یہ درست ہے کہ جب بھی کسی بیمار ماں یا بیمار بیوی کے متعلق مجھے اطلاع ملتی ہے تو بلا تاخیر میں ان کے بچوں یا خاوندوں وغیرہ کو واپس جانے کا حکم دیتا ہوں چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں۔ان کو جبراً واپس بھجوایا جاتا ہے کیونکہ اس سے میرے دل کو ورنہ گہری تکلیف پہنچتی ہے اور اب جماعت اللہ کے فضل سے بہت توفیق پا چکی ہے۔اب کوئی وجہ نہیں کہ بے وجہ قربانیاں گھسیٹی جائیں۔قربانیاں دینے کا جو وہ عظیم دور تھا وہ اور رنگ کی قربانیاں تھیں۔اب جماعت اور رنگ کی قربانیوں میں داخل ہوگئی ہے۔لیکن انہوں نے مجھے پتہ ہی نہیں لگنے دیا۔ایسی حالت میں وفات پاگئیں کہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ کیا کیفیت تھی۔کس طرح انہوں نے اپنے بچوں کو روک رکھا تھا۔کہ مجھے اطلاع نہ دیں۔ایک واقعہ ایک ماں اور بچے کے آپس میں معاملے کا ہے اور بہت دلچسپ ہے۔مکرمہ نذیر بیگم صاحبہ جو مولوی عبد الرحمن صاحب انور مرحوم کی بیگم ہیں، ان کا واقعہ ہے۔وہ بھتی ہیں کہ میں ایک دن اپنی ساس امۃ العزیز صاحبہ کے ساتھ حضرت مولوی حافظ روشن علی صاحب سے ملنے گئی تو انہوں