اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 277

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۲۷۷ سے خطاب کیکم اگست ۱۹۹۲ء نے پوچھا کہ عبدالرحمن کہاں ہے۔یعنی مولوی عبد الرحمن صاحب انور کی والدہ سے پوچھا کہ عبدالرحمن کہاں ہے تو ان کی والدہ نے کہا وہ گورنمنٹ میں ملازم ہو گیا ہے۔اب اس خبر پر انسان عام طور پر کہتا ہے کہ انہوں نے کہا ہوگا اچھا اچھا۔مبارک ہو بہت بہت۔لیکن حافظ روشن علی صاحب کا جواب سنئے۔حافظ صاحب نے جو لیٹے ہوئے تھے اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے زانوؤں پر ہاتھ مار کر کہا : جب ناک پونچھنا نہ آتا تھا تو ہمارے حوالے کر دیا اور جب کسی قابل ہوا تو گورنمنٹ کو دے دیا۔یہ کونسا انصاف ہے۔ان کی والدہ کہتی ہیں کہ میں حضرت حافظ صاحب کی گرجدار آواز سن کر تھر تھر کانپنے لگی۔میں نے گھر آکر انور کو خط بھجوایا کہ استعفیٰ دے کر فوراً آ جاؤ۔ان کا جو جواب آیا وہ ۱۵۔۶اکٹری شرائط پر مشتمل تھا۔اب آپ سوچیں گی کہ وہ شرائط کیا ہیں۔بڑی سخت شرائط تھیں کہ میں آؤں گا لیکن یہ میری شرطیں ہیں۔اگر آپ کو منظور ہے تو آؤں گا ورنہ نہیں آؤں گا۔وہ شرطیں سن لیجئے۔وہ ساری شرطیں تو کہتی ہیں مجھے یاد نہیں رہیں لیکن کہتی ہیں کہ تین شرطیں جو نمایاں طور پر مجھے یادر ہیں وہ یہ تھیں کہ جب جہاں اور جتنی دیر کے لئے بھیجیں گے چلا جاؤں گا۔اس شرط کے ساتھ استعفیٰ دوں گا کہ میں آپ کو بھی متنبہ کردیتا ہوں۔کہ وقف کے بعد مجھے خلیفہ اسیح امام وقت جب جہاں جتنی مدت کے لئے بھیجیں گے چلا جاؤں گا۔اگر تنخواہ نہیں دیں گے تو مطالبہ نہیں کروں گا۔اگر مجھے کہیں گے کہ کنویں میں چھلانگ لگا دو تو لگا دوں گا۔بعد میں رونا نہیں۔ان کی والدہ نے لکھا مجھے شرطیں منظور ہیں۔چلے آؤ اور اس کے بعد تا زندگی کامل وفا کے ساتھ وہ سلسلہ سے وابستہ رہے اور وقف کے تمام تقاضے پورے کئے۔مجھے یاد ہے ایک وقت میں تحریک جدید میں یہی افسر تھے یہی کلرک تھے۔سارا کام انہی کے سپرد ہوتا تھا۔تحریک کے اس دفتر کے پاس سے ہم کھیلتے کھیلتے گزرا کرتے تھے تو دن کو بھی ان کو موجود پایا، رات کو بھی وہاں بجلیاں جلی ہوتی تھیں اور کئی آدمیوں کا کام یہ تنہا کرتے رہے اور ساری عمر یہی ان کا دستور رہا۔حضرت خلیفہ اسی الثانی کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔اس وقت بھی یہی عالم تھا توقف کی روح کو جیسا کہ انہوں نے کڑی شرطیں خود پیش کی تھیں ان شرطوں کے مطابق تا زندگی نبھاتے رہے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔اور اس ماں کو بھی جس ماں نے اس بچے کو دنیا سے ہٹا کر دین کی خدمت میں پیش کر دیا۔عجیب مائیں تھیں وہ اور عجیب بیویاں تھیں۔وہ جن کے ہاتھوں میں احمدیت پل کر جوان ہوئی ہے۔