اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 249
حضرت خلیفہ مسح الرائع کے مستورات سے خطابات ۲۴۹ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء ہوکر بھاگے پھرتے ہیں، ان کو سوائے بے چینی کے ، بے اطمینانی کے بالآخر کچھ بھی نصیب نہیں ہوتا۔پس قرآن کریم نے اس معاشرے کی تصویر ایک موقع پر یوں بیان فرمائی کہ جیسے کوئی سراب کے پیچھے دوڑ رہا ہو، پیاس کی شدت اسے سراب کی پیروی کیلئے اس کی طرف تیز تر بھگاتی چلی جائے لیکن وہ اس سے آگے بھاگتا چلا جائے یہاں تک کہ جب مزید اس میں چلنے کی سکت نہ رہے تو اپنے آپ کو اس سراب کے مقام پر پائے جہاں خدا اس کو جزاء دینے کیلئے پہنچا ہے اور اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔پس اکثر ان لوگوں کے انجام اسی قسم کے ہیں اور دن بدن ان کے معاشرے میں بے چینی بڑھتی چلی جارہی ہے، معاشرہ پر عذاب ہوتا چلا جا رہا ہے۔اقتصادی لحاظ سے بلند مقامات پر فائز ہونے کے باوجود کوئی دولت ان کے دلوں کی تسکین کے سامان نہیں کر سکتی اور دن بدن گلیوں میں جرم پل رہے ہیں اور ظلم اور سفا کی نشو ونما پارہی ہے۔ایک طرف تہذیبی تقاضے یہ ہیں کہ تمام دنیا کو وہ تہذیب سکھانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور تیسری دنیا کے غریب ممالک پر اس لحاظ سے طعن زنی کرتے ہیں کہ تمہیں ابھی تک انسانیت بھی نہیں آئی تمہیں انسان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف بھی توجہ نہیں ہے تم انسانی حقوق ادا کرنے کے راز نہیں جانتے ہم تمہیں سکھاتے ہیں کہ Civilization کیا ہے۔کس طرح تہذیب کے ساتھ رہنا ہوتا ہے اور دوسری طرف جب ان کو قریب سے دیکھا جائے تو ایسے خوفناک رجحانات ان کے اندر نہ صرف پیدا ہوئے ہیں بلکہ روز بروز نشو و نما پاتے چلے جارہے ہیں کہ جو سفا کی کے نظارے اب وہاں ان کے ٹیلیویژن پر کھلم کھلا دکھائے جانے لگے ہیں یا ان کے اخبارات میں ان کے تذکرے ملتے ہیں وہ ایسے خوفناک ہیں کہ ان کا بیان بھی ممکن نہیں۔ایک موقعہ پر ایک ٹیلیویژن کے پروگرام میں ایک بہت ہی تجربہ کار بڑا پولیس کا افسر پیش ہوا اور اس نے ایک ایسے شہر کو ٹیلیویژن پر دکھایا جس کا نام اس نے احتیاطاً نہیں لیا تاکہ قانونی جکڑ میں نہ آجائے۔اس نے کہا اس شہر میں ایک لمبے عرصے سے میں اپنے فرائض ادا کرتا چلا آرہا ہوں، غالباً اس نے ۲۵ یا ۳۰ سال بتائے اور کہا کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ کم از کم اس شہر کے ۳۳ فیصدی گھر یعنی (ONE THIRD) ایسے ہیں جن میں باپ اپنی بیٹیوں پر سفا کا نہ ظلم کرتے ہیں اور مائیں اپنے بیٹوں پر کرتی ہیں اور بے حیائی اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے اور انکی کوئی شنوائی نہیں۔قوانین ایسے ہیں جو مجرم کی حمایت کرنے والے اور معصوم کے خلاف استعمال ہونے والے اور معصوم کی حفاظت کے جتنے حقوق ہیں ان کو پامال کرنے والے ہیں۔بہر حال یہ بحث تو اس کی قانونی بحث تھی لیکن میں نے اسے اس نقطہ نگاہ سے دیکھا کہ تہذیب کے اس لمبے سفر