اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 248
حضرت خلیفتہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۲۴۸ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء مضمون رکھتی ہیں۔وہ عظمت اور تحریم کا مضمون رکھتی ہیں۔ان سے عورت کا مقام بلند ہوتا ہے،اس سے عورت کو دنیا کے دلدلوں میں پھنسنے سے نجات ملتی ہے، اس کے سوا ان قیود کا اور کوئی مطلب نہیں لیکن آج میں اس مضمون کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔کچھ اور باتیں ہیں جو میرے پیش نظر ہیں۔اول یہ کہ آج دنیا کو مسلمان عورت کے متعلق جو غلط نہی ہے اس کے محض علمی جواب دینا کافی نہیں کیونکہ بسا اوقات جب مجالس سوال و جواب میں اہل مغرب نے اس مضمون پر سوال کیئے اور میں نے خدا تعالیٰ کی تائید کے ساتھ اور اس کی توفیق کے ساتھ کسی حد تک تشفی بخش جواب دیئے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ کوئی عورت اٹھ کھڑی ہوئی اور اس نے کہا کہ اچھا! اگر یہ اسلامی معاشرہ ہے تو اس کے نمونے تو دکھائیے۔کیا مصر میں یہ جنت ملتی ہے؟ یا شام میں نظر آتی ہے؟ یا سعودی عرب میں دکھائی دیتی ہے یا پاکستان میں اس کا مظاہرہ ہوتا ہے؟ کسی ملک کا نام تو لیجئے جہاں آپ کی بتائی ہوئی جنت دکھائی بھی تو دے۔پس محض بتا نا کافی نہیں ہے وہ جنت جس کا میں ذکر کر رہا ہوں ، ایک ٹھوس حقیقت ہے ایک خواب نہیں ہے جس کی تعبیریں تلاش کی جائیں۔یہ ٹھوس حقیقت احمدی خواتین نے اپنی زندگی اور اپنے معاشرے میں عملاً دنیا کو دکھانی ہے۔پس بعض دفعہ میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ جنت اپنی آخری کامل اور حسین تر صورت میں تو میں تمہیں نہیں دکھا سکتا لیکن اگر تمہارے پاس وقت ہو اور اپنے ملک میں بسنے والی احمدی خواتین سے ملو، ان کے اجلاسوں میں آؤ، ان سے سوال و جواب کرو، ان کے گھروں میں جا کر دیکھو، ایک ایسے معاشرے کو جنم دے رہی ہیں، ایک ایسا معاشرہ پیدا کر رہی ہیں جو یورپ سے ایک بالکل مختلف معاشرہ ہے۔یورپ کے معاشرے کو اگر دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ تموج پیدا کرتا ہے، بے چینی پیدا کرتا ہے، ایسی تحریکات آپ کے سامنے رکھتا ہے جس کے نتیجہ میں دل بے اطمینانی ہی محسوس نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر ایک طلب کی ایسی آگ بھڑک اٹھتی ہے جو کسی پانی سے بجھ نہیں سکتی جس پانی کی بھڑک دل میں پیدا ہوتی ہے وہ پانی سمندر کے پانی کی طرح شور پانی ہوتا ہے اور جتنا آپ اس سے پیاس بجھانے کی کوشش کریں اتنا ہی وہ بھڑک اور زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ ایسی حقیقت ہے، جب کھول کر اہل مغرب کے سامنے پیش کی جائے تو ان کے دل گواہی دیتے ہیں اور وہ ہمیشہ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہماری Civilization ہماری تہذیب ، ہمارا تمدن جن لذتوں کی طرف بلاتا ہے ان میں آخری تسکین کا کوئی مقام نہیں ہے۔محض پیچھے بھاگنا ہے اور مزید کی طلب ، مزید کی تلاش ہے جو آخر کہیں نہیں ملتا اور بالآخر وہ لوگ جو دنیاوی لذتوں کی تلاش میں بے لگام