اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 250
حضرت خلیفہ انسخ الرابع کے مستورات سے خطابات مسیح ۲۵۰ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء کے بعد بالآخر جس مقام پر پہنچے ہیں یہ وہی مقام تو ہے جس کا قرآن کریم میں ایک سراب کی صورت میں ذکر فرمایا گیا تھا کہ بالآخر تم وہاں پہنچو گے جہاں تمہیں خدا کی عائد کردہ سزا کھڑی دکھائی دے گی۔اس سزا میں تم چاروں طرف سے گھیرے جاؤ گے اور تمہارے لئے نجات کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔یہ ایک پہلو ہے جس کا میں نے مختصر اذکر کیا لیکن جو بیماریاں اب وہاں راہ پارہی ہیں، جو دن بدن بدامنی کی کیفیت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اس کا حال یہ ہے کہ ہر انسان اپنے گھر میں جنت ڈھونڈنے کی بجائے باہر جنت کی تلاش کرتا ہے الا ماشاء اللہ یقیناً بہت سے ایسے گھر بھی ہیں جن میں سکون ملتا ہے، جن میں اعلیٰ انسانی قدریں بھی ملتی ہیں، اکثر گھروں کی صورت یہ ہو چکی ہے کہ وہ گھر محض رات بسر کرنے کیلئے گھر ہیں ورنہ ان کی لذتیں ان کے سکون گھروں سے باہر پڑے ہیں اور وہ لذتیں ، وہ سکون ایسے ہیں جو حاصل کئے جائیں تو کسی اور کی لذت اور سکون ٹوٹ کر حاصل ہوتے ہیں ایسی بیماریاں پھیل چکی ہیں جس نے خدا تعالیٰ کی عطا فرمودہ لذتوں کو ایک جہنم میں تبدیل کر دیا ہے یہ وہ صورتِ حال ہے جو گہرے غور کے بعد غیر اسلامی تہذیب کی صرف ایک ملک میں نہیں دو ملکوں میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں رونما ہورہی ہے۔پس میں جب مغرب کی مثال دیتا ہوں تو ہر گز یہ مراد نہیں کہ اہل مشرق ان باتوں سے صاف اور پاک ہیں۔میں اسلام اور اسلام کی مخالف قدروں کا موازنہ کر رہا ہوں۔ہندوستان بھی انہی بدیوں میں مبتلا ہوتا چلا جا رہا ہے اور پاکستان بھی انہی بدیوں میں مبتلا ہوتا چلا جارہا ہے اور مشرق اور مغرب دونوں اس پہلو سے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔پس اس صورت حال کو کیسے تبدیل کیا جائے، کیسے اس کا رخ پلٹا جائے تاکہ دنیا کو سکون نصیب ہو۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔احمدی عورت واقعہ اس بات کی اہلیت رکھتی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تو قعات کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے کہ اس دنیا میں جنت کے نمونے پیدا کرے۔اپنے گھروں کو وہ جذب دے، وہ کشش عطا کرے جس کے نتیجہ میں وہ محور بن جائے اور اسکے گھر کے افراد اس کے گرد گھو میں۔انہیں باہر چین نصیب نہ ہو بلکہ گھر میں سکینت ملے وہ ایک دوسرے سے پیار اور محبت کے ساتھ ایسی زندگی بسر کریں کہ محض لذت یابی کا ایک ہی رخ سر پر سوار نہ رہے جو جنون بن جائے اور جس کے بعد دنیا کا امن اٹھ جائے بلکہ خدا تعالیٰ نے جو پیار اور محبت کے مختلف لطیف رشتے عطا فر مار کھے ہیں ان رشتوں کے ذریعہ وہ سکینت حاصل کریں جیسے خون کی نالیوں سے ہر طرف سے