اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 247
حضرت خلیفہ اسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۴۷ مسیح خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء میرا ذکر فرمایا اور یہ کہا اے مسلمان عورت! جو میرے حلقہ ارادت میں داخل ہوئی تجھ سے مجھے یہ توقع ہے کہ تیرے پاؤں کے نیچے بخت ہے۔پس محض یہ مردوں کیلئے ہی پیغام نہیں ، بچوں کیلئے ہی پیغام نہیں کہ تم اپنی جت اپنی ماؤں کے پاؤں تلے ڈھونڈو اور بالعموم یہی معنی ہیں جو کہ سمجھے جاتے ہیں اور بیان کئے جاتے ہیں کہ عورت کا ادب کر وہ عورت کی دعائیں لو حالانکہ اس سے بہت زیادہ وسیع تر معنی عورت کے کردار سے تعلق میں بیان ہوئے ہیں۔اگر ہمارا معاشرہ ہر گھر کو جنت نہیں بنادیتا تو اس حدیث کی رو سے وہ معاشرہ اسلامی نہیں ہے اور اگر جنت کو جہنم بنانے میں مردوں کا قصور ہے تو یہ قصور محض اس وقت کے دائرے میں محدود نہیں جس میں اس کی شادی ہوئی اور ایک عورت کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کرنی شروع کی بلکہ اس کا تعلق ایک گزرے ہوئے زمانے سے بھی ہے۔اس نے ایسی بدنصیب ماں بھی پائی کہ جس کے قدموں تلے اسے جنت کی بجائے جہنم ملی پس جنت کی خوشخبری سے یہ مراد نہیں کہ لاز ماہر ماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔مراد یہ ہے کہ خدا توقع رکھتا ہے کہ اے مسلمان عورتو! تمہارے پاؤں تلے سے جنت پھوٹا کرے اور جہاں تمہارے قدم پڑیں وہ برکت کے قدم پڑیں اور تمہاری اولادیں اور تم سے تربیت پانے والے ایک جنت نشان معاشرے کی تعمیر کریں۔پس اس نقطہ نگاہ سے احمدی خواتین کو بہت کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔بہت کچھ فکر کی ضرورت ہے، اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور جتنی اسلامی تعلیمات بعض عیوب سے تعلق رکھتی ہیں یعنی عورت کو بعض باتیں کرنے سے روکتی ہیں اور بعض ادا ئیں اختیار کرنے سے منع فرماتی ہیں ان کا بلا شبہ اس حدیث کے مضمون سے ایک گہرا تعلق ہے۔وہ سب باتیں وہ ہیں جو جنت کو جہنم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔پس اسلام عورت کیلئے قید خانہ ان معنوں میں نہیں کہ مرد کو تو کھلی چھٹی ہے جو چاہے کرتا پھرے عورت مظلوم گھروں کی چار دیواری میں مقید ہو ان معنوں میں ہرگز مومنہ عورت کی زندگی ایک قید خانہ میں بسر نہیں ہوتی۔ہاں ایک اور معنی میں وہ یقینا قید خانہ میں رہتی ہے ، جن معنوں میں تمام مسلمان مرد بھی تو قید خانہ میں ہی رہتے ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور اس کی روایت یہ ہے کہ الدُّنْيَا سِجن لِلْمُومِن وَجَنَّة لِلْكَافِرِ ( صحیح مسلم - كتاب الزہد ) تو وہاں مومن کے لفظ کے اندر تمام مرد مومن بھی اور مومن عورتیں بھی شامل فرما دیں۔پس وہ قید خانہ اور ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں لیکن ایسے کسی قید خانے کا ذکر اسلام میں کہیں نہیں ملتا جس کے نتیجہ میں عورت تو اچھی باتوں سے محروم رہ جائے اور مقید ہو جائے اور مرد کو کھلی آزادی ہو کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے۔جو بھی پابندیاں ہیں وہ حفاظت کا