اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 246

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۴۶ خطاب ۲۷؍ دسمبر ۱۹۹۱ء تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔اتنا خوبصورت فقرہ ہے، اتنا عظیم عورت کیلئے اظہار تحسین ہے کہ جس کے متعلق یہ فقرہ کہا جائے بلا شبہ اس کو آسمان کی بلند ترین رفعتیں عطا ہو جاتی ہیں۔کسی مرد کے متعلق نہیں فرمایا ، یا مردوں کے کسی گروہ کے متعلق نہیں فرمایا کہ ان کے پاؤں تلے ان کی اولا دوں کی جنت ہے یا قوم کی جنت ہے صرف عورت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ایسا سر ٹیفکیٹ ایسا لقب عطا فرما دیا، ایسا مقام عطا کر دیا، ایسا مطمع نظر اس کو بخشا جس کی کوئی مثال دنیا کے کسی مذہب اور کسی تہذیب میں نہیں ملتی۔جب میں نے اسکی مزید تفصیل بیان کی تو وہی خاتون جنہوں نے بڑی شوخی سے تو نہیں کہنا چاہئے مگر اعتماد کے ساتھ یہ سوال کیا تھا، یہ جانتے ہوئے یہ احساس رکھتے ہوئے کہ اس سوال کا کوئی جواب کسی مسلمان کے پاس نہیں ہو سکتا، نہ صرف یہ کہ اس کا سر جھک گیا بلکہ بعد میں تائید میں کھڑی ہوئی اور اس نے کہا آج مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا ہے کہ اسلام عورت کو کیا عزت عطا کرتا ہے اور کیا مقام بخشتا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی ہدایت ہے لیکن اس کے اندر بہت گہرے مضامین ہیں ،مثبت رنگ کے بھی اور منفی رنگ کے بھی۔یہ محض ایک خوشخبری ہی نہیں بلکہ انذار کا پہلو بھی رکھتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا عورتوں کے متعلق مردوں کو یہ نصیحت کرنا یا تمام قوم کو یہ نصیحت کرنا کہ تمہاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے ایک بہت ہی معارف کا سمندر ہے جو ایک چھوٹے سے فقرے کے کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔عورت کے اختیار میں ہے کہ قوم کا مستقبل بنائے۔جس جنّت کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ صرف آخرت کی جنت نہیں بلکہ اس دنیا کی جنت بھی ہے۔کوئی قوم جسے اس دنیا کی جنت نصیب نہ ہوا سے آخرت کی جنت کی موہوم امیدوں میں نہیں رہنا چاہئے وہ محض ایک دیوانے کا خواب ہے کیونکہ جس کے دل کو اس دنیا میں سکینت نصیب نہیں ہوتی اسے آخرت میں بھی سکینت نصیب نہیں ہوسکتی۔جو اس دنیا میں اندھے ہیں وہ اس دنیا میں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے۔پس اس پہلو سے مسلمان عورت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو اس دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں اور اُس دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں۔سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہر خاتون جو گھر کی مالکہ ہے کیا اس کے گھر میں جنت بن گئی ہے یا نہیں بنی ؟ کیا اس کی اولاد میں جنتیوں والی علامتیں پائی جاتی ہیں کہ نہیں؟ اسے دیکھ کر ہر عورت خود اپنے نفس کا جائزہ لے سکتی ہے اور اس بات کو پر کھ سکتی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی پیش کردہ کسوئی کے مطابق میں وہ عورت ہوں کہ نہیں جس کا ذکر میرے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اتنے پیار اور اتنے ناز اور اتنے اعتماد کے ساتھ کیا تھا مجھے مخاطب کیا