اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 234
حضرت خلیفہ المسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۲۳۴ خطاب ۳۱ را گست ۱۹۹۱ء ناصح کے بنیادی اوصاف پس ناصح کے لئے جو سب سے اہم جذبہ ہے وہ محبت اور پیار کا جذبہ ہے وہ ان لوگوں کے لئے دکھ محسوس کرے جو نیک نصیحت کو سن کر اس پر عمل نہیں کرتے آنحضرت ﷺ نے بعض دفعہ سزائیں بھی دیں اور بڑی سخت سزائیں دیں اور وہ اتنی لمبی ہو گئیں کہ حیرت ہوتی تھی کہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ جیسا شفیق اور نرم دل انسان اتنے لمبے عرصہ تک سزا کیسے دے سکتا ہے مگر چونکہ آپ کسی عورت کی طرح نرم دل نہیں تھے بلکہ ایک ایسے بااختیار مرد کی طرح نرم دل تھے جسے اپنے جذبات پر پورا قابو حاصل تھا جس کا دماغ اور دل باہم متوازن تھے۔دل کو دماغ پر غلبہ نہیں تھا اور دماغ کو دل پر غلبہ نہیں تھا دونوں پہلو بہ پہلو ایک توازن کے ساتھ جاری وساری تھے اس لئے جہاں اصولی طور پر آپ نے فیصلے فرمائے وہاں اُن پر سختی سے قائم ہوئے یہاں تک کہ بعض دفعہ جب تک خدا کی طرف سے وحی نازل نہیں ہوئی کہ اب بہت کچھ ہو چکا اب ان کو معاف کر دو اس وقت تک آپ نے معاف نہیں کیا لیکن اس عرصہ میں بھی ان کے لئے دیکھ ہی محسوس کرتے رہے۔اُن کو جب دیکھا رحم اور درد کی نظر سے دیکھا۔اس لئے یہ وہ بنیادی صفات ہیں جو عہدیداران میں میں دیکھنا چاہتا ہوں اور اس پہلو سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔مجھ پر کئی سال سے یہی تاثر چلا آ رہا ہے ہوسکتا ہے میں غلط ہوں اگر میں غلط ہوں تو خدا مجھے معاف فرمائے لیکن مجھ پر یہ تاثر تھا کہ آپ کی سابقہ صدر بہت محنت کرنے والی ، بے حد خلوص سے خدمت کرنے والی ، قربانی کرنے والی فطری جذبے سے عاری تھیں جو نصیحت کی کامیابی کے لئے ضروری ہے جس کے بغیر دلوں پر گہرا اثر نہیں پڑتا۔یہاں تک تو قابل برداشت تھا لیکن امسال شوری میں ایک ایسی حرکت ان سے سرزد ہوئی جس کے نتیجہ میں فتنہ پیدا ہوا۔کئی اور لوگ بھی اپنے کئے کی سزا پاگئے لیکن بہانہ وہ بنا جو بات انہوں نے کہی۔دو باتیں ایسی تھیں جو نظام جماعت کے خلاف ، شوری کی روایات کے خلاف اور ہرگز زیب نہیں دیتا تھا کہ صدر لجنہ اس اجلاس میں ایسی باتیں کرے۔جماعت احمدیہ پر نا پاک فتویٰ ایک تو انہوں نے یہ کہا جماعت کے اوپر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ہم باتیں تو کرتے ہیں عمل کوئی نہیں کرتے یہ ہم لوگوں کا حال ہے اور ساتھ اقبال کا یہ شعر پڑھا