اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 233

حضرت خلیفہ المسح الرابع ” کے مستورات سے خطابات ۲۳۳ خطاب ۳۱ را گست ۱۹۹۱ء بے حد قریب کے رشتے ایسے تھے جن کو شہادت نصیب ہوئی تھی۔اگر خاوند تھا تو اس نے یہ کہا کہ بی بی تمہارے خاوند شہید ہو گئے ہیں۔اس نے پلٹ کر کہا میں نے خاوند کا کب پوچھا ہے میں تو محمد مصطفیٰ کی بات کر رہی ہوں ان کو تو گزند نہیں پہنچا؟ اس نے سمجھا کہ شاید خاوند کے ساتھ بعض بیویوں کے ایسے تعلق نہیں ہوا کرتے اس لئے اس کو پرواہ نہیں ہے۔اس نے کہا بی بی تمہارے بھائی بھی شہید ہو گئے ہیں۔اس نے کہا میں بھائیوں کا کب پوچھتی ہوں۔مجھے تو میرے آقا محمد کی خبر دو۔اس نے سمجھا کہ شاید بھائیوں سے پیار نہیں تھا اور چونکہ وہ نرمی سے آہستہ آہستہ سب سے بڑی تکلیف کی خبر اُسے پہنچانا چاہتا تھا اس کے بعد کہا بی بی میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہارے بیٹے بھی شہید ہو گئے ہیں۔اس نے پھر پلٹ کر کہا میں بیٹوں کا کب پوچھتی ہوں مجھے میرے آقا محمد رسول اللہ کی خبر دو وہ خیریت سے صلى الله ہیں کہ نہیں؟ اتنے میں حضرت رسول اللہ ﷺ اپنے عاشقوں کے جھرمٹ میں اُن کے سہارے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُس کی طرف آرہے تھے تو اس جواب دینے والے کی نظر آپ پر پڑی اور اُس نے اشارہ کر دیا کہ وہ ہیں محمد رسول اللہ ﷺ زندہ سلامت موجود ہیں۔یہ سن کر وہ بے اختیار چیخ اٹھی ٹل مُصِيبَة بَعْدَكَ جَلَلُ۔اے میرے محبوب تو زندہ ہے تو سلامت ہے تو تیرے بعد کوئی مصیبت باقی نہیں رہی۔ہر مصیبت ہر مشکل حل ہوگئی ہے تو سب سے زیادہ پیار کرنے والا بھائی تھا، تو سب سے زیادہ پیار کرنے والا سر کا سایہ تھا تو سب سے زیادہ پیار کرنے والا بچہ تھا، جو پیار ہر طرف سے کسی عورت کو نصیب ہو سکتے ہیں مجھے تجھ سے نصیب تھے۔تجھ سے نصیب رہیں گے۔یہ کیسے معجزہ ہوا؟ تاریخ عالم کا مطالعہ کر کے دیکھیں کبھی اس جیسا کوئی واقعہ اس آسمان کے نیچے رونما نہیں ہوا۔یہ تنہا واقعہ ہے اس شان کا واقعہ ہے کہ اس شان کے نہ سورج ہیں اور نہ چاند ستارے ہیں۔اپنی مثال آپ ہے یہ صرف اور صرف حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے دل کی رحمت اور آپ کے عظیم اخلاق کا نتیجہ تھا کہ یہ بات ہوئی اور قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی آپ کے سامنے آیت رکھی ہے فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى الا يكونوا مؤمنين - قرآن كريم نے اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے کہ اور ایک دوسری جگہ فرمایا۔فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ( سورة الكهف:۷ ) کہ اے محمد ! تو کیا اُن لوگوں کے غم میں ہلاک ہورہا ہے جو تیری باتیں سنتے ہیں اور پھر ایمان نہیں لاتے اور ہلاکت کی طرف چلے جارہے ہیں۔