اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 172
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۷۲ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء آتے ہو تو عورت کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ گھر کو صاف ستھرا کرے،سنبھال کر رکھے، تمہارے لئے اچھے کھانے پکائے ، اچھے کپڑے زیب تن کرے، اُس کو موقع تو دو اس بات کا کہ وہ یہ خوشی پوری کر سکے۔اس معاملے پر غور کرتے چلے جائیں آپ کو اور حکمت کے دروازے آپ پر کھلتے چلے جائیں گے۔میں جب اس حدیث پر غور کرتا ہوں، مجھے بہت ہی لطف آتا ہے اور سوچتے سوچتے میرا ذ ہن کہیں سے کہیں جانا شروع ہو جاتا ہے۔اس میں آنحضرت ﷺ نے عورت کو آداب بھی سکھائے ہیں کہ کس طرح مرد کا استقبال ہونا چاہئے۔اگر عورت نے مرد کو گھر میں داخل ہوتے ہی گالیاں ہی دینی ہیں اور کہنا ہے کہ تم اب آگئے ہو اتنی دیر کے بعد کیا کر کے لائے ہو، اور تم تو یہ ہو اور وہ ہو اور تم ہمارا خیال نہیں کرتے ،اس قسم کی باتیں کرنی ہیں، تو پھر پہلے اطلاع دینے کا کیا فائدہ؟ پھر جیسی پہلے اطلاع ویسے بعد کی اطلاع ایک ہی بات بن جاتی ہے۔پس اس پر غور کریں اس میں عورت کو بھی ایک تعلیم دے دی ہے کہ تمہارے لئے پہلے اطلاع دینے کی نصیحت اس لئے کر رہے ہیں کہ جب خاوند گھر میں داخل ہوا کرے تو اس کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اُس کے لئے تیاری کیا کرو اور اگر تمہاری عادتیں گندی بھی ہیں ، اگر تم بے پرواہ بھی ہو، بستر اُسی طرح گھلے پڑے ہیں۔اور جو برتن بکھرے پڑے ہیں وہ اُسی طرح بکھرے پڑے ہیں تو کم سے کم اپنے خاوند کی موجودگی میں ان چیزوں کا خیال کر لیا کرو۔یہ مخفی نصیحت ہے جو اس نصیحت کے اندر موجود ہے۔اگر آپ غور کریں حکمت سے تو آپ کو یہ ساری باتیں نظر آجائیں گی اور گھروں کی خرابی کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ایسی باتوں میں عورت باریکی سے خیال نہیں کرتی اور بعض دفعہ وہ بجھتی ہے کہ کیا فرق پڑتا ہے گھر میں۔جیسی گندی میں ہوں ٹھیک ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔خاوند ہی ہے نا اس نے ساتھ ہی رہنا ہے جو کچھ ہے ٹھیک ہے۔برتن بکھرے پڑے ہوں ، بستر اُلٹے پلٹے پڑے ہوں گند کی ڈھیریاں لگی ہوں، کوئی فرق نہیں پڑتا ، آپس میں بے تکلفی ہے۔واقعہ اس کا بہت ہی گہرا اثر پڑتا ہے۔ایک تکلف ہے جو ہمیشہ رشتوں میں قائم رہنا چاہئے وہ ایک دوسرے کے احترام کا تکلف ہے اور ایک دوسرے کے سامنے صفائی کے ساتھ ظاہر ہونے کا تعلق ہے جہاں یہ تعلق بگڑیں گے وہاں معاشرہ ضرور تباہ ہو گا اس لئے عورتوں کے لئے بھی اس میں نصیحت ہے کہ اپنے گھروں کو بھی صاف رکھا کریں، اپنے بدن کو بھی ، اپنے کپڑوں کو بھی اور خاوند آئے تو اس کا اہتمام کیا کریں۔اگر عورتیں ایسا کریں گی تو بہت سے خاوند جو اپنی بدھیبی سے بھٹک جاتے ہیں اور دوسرے گھروں میں دلچسپی لینے لگ جاتے ہیں وہ اس