اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 171
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات 121 خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء دے دو اور طلاق اس صورت میں دو کہ جتنے اموال یہ چاہتی ہیں جو کچھ چاہتی ہیں لے لیں اور الگ ہو جائیں لیکن ان کو موقع دو کہ آئندہ یہ ان تکلیف دہ باتوں کو دھرائیں گی نہیں۔اُس وقت وہ حقوق جو آنحضرت ﷺ اپنے لئے نہیں مانگا کرتے تھے۔جب خدا نے ان کی طرف متوجہ فرمایا تو ظاہر بات ہے کہ امہات المومنین کا ایک ہی جواب ہونا تھا کہ یا رسول اللہ! ہر نگی ترشی میں ہم آپ کے ساتھ رہیں الله گی ، آپ کے ساتھ تعاون کریں گی اور آئندہ بھی آپ کو ہم سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔پس اس پہلو سے آنحضرت ﷺ کا اسوہ ہی وہ اُسوہ ہے جسے احمدی مردوں کو اپنانا ہوگا۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اپنے گھروں کو نقصان پہنچائیں گے، اپنی خوشیوں کو نقصان پہنچائیں گے، اپنے گھروں کو جنت کا گہوارہ بنانے کی بجائے جہنم کا ایک مرکز بناویں گے جہاں تکلیف ہی تکلیف ہوگی اس لئے مجھے بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ احمدی مردوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اگر احمدی عورتیں اپنے مردوں سے خوش رہیں تو وہ ان کے ساتھ وفا دار ہیں گی ، وہ ان کی اولاد کی بہترین تربیت کریں گی ، ان کی نظریں ادھر ادھر بھٹکیں گی نہیں ، وہ گھر کا ماحول ایسا پیارا بنا ئیں گی کہ واقعہ اس دنیا کے معاشرے کو ایک جنت کا معاشرہ قرار دیا جا سکے گا۔آنحضرت عملے نے اس باریکی سے عورت کے حقوق کا خیال رکھا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔کتنی لطیف نظر تھی اور کہاں کہاں تک پہنچتی تھی۔بعض دفعہ بعض مردوں کو یہ بیہودہ عادت ہوتی ہے کہ اچانک گھر پہنچتے ہیں دیکھنے کے لئے کہ بیوی کیا کر رہی ہے۔جہالت کی بات ہے اگر عورتیں اس طرح ان کے دفتروں پر چھاپے مارنے لگ جائیں تو ان کا کیا حال ہو گا۔وہ تو بعض دفعہ کچھ کہہ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں، اپنے دوستوں کی مجلس میں اور آکر کہتے ہیں کہ ہم دفتر گئے ہوئے تھے۔آنحضرت علی نے اس حد تک اس معاملے میں اُس زمانے میں عورت کا خیال رکھا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم سفر سے آیا کرو، جب تم دور گئے ہوئے ہو، اور عورت کو کبھی و ہم بھی نہیں آسکتا کہ کس وقت خاوند میرے پاس آئے گا ایسی حالت میں اچانک بلا اطلاع کے اپنے گھر داخل نہیں ہونا اور رات کے وقت اچانک نہیں آنا بلکہ اطلاع دو اور دن کے وقت آؤ۔اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔حیرت انگیز نصیحت ہے یہ اور بڑی گہری ہے۔اس میں کئی قسم کی باتیں ہیں، اول تو بدلنی سے منع فرما دیا گیا اور فرمایا کہ اگر تم بدظنی بھی کرتے ہو، تو تمہیں تجسس کا کوئی حق نہیں۔ہر گز تم نے اپنی بیویوں پر کسی قسم کا بدخن، سوء ظن نہیں کرنا اور اس قسم کے چھاپے نہیں مارنے۔دوسرا یہ کہ عورت کو یہ حق دو کہ وہ تیار ہو۔گھر میں تم