اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 166

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۶ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء ساتھ ظلم اور نا انصافی کا سلوک کیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَن وَالْاَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَنِ وَالْاَقْرَبُونَ مِمَّا ط قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضَا (النساء: ٨) اور مردوں کا بھی اور عورتوں کا بھی اُس مال میں جو اُن کے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں ایک حصہ ہے خواہ اس ترکے میں سے تھوڑا بچا ہوا ہو یا بہت یہ ایک معین حصہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں بعض دفعہ یہ اعتراض اہل یورپ کی طرف سے خصوصیت سے اُٹھایا جاتا ہے کہ مرد کا حصہ دگنا کیوں رکھا؟ عورت کا آدھا کیوں رکھا؟ پہلا اس کا جواب یہ ہے کچھ رکھا تو ہے۔اگر اسی وجہ سے اسلام قبول نہیں کرتے تو باقی مذاہب کو قبول کرنے کا تمہیں کیا حق ہے جہاں عورت کا کوئی بھی حصہ نہیں رکھا گیا اس لئے انصاف سے کام لو جہاں بہتر تعلیم ہے کم سے کم اُسی کی طرف رُخ کرو۔دوسرا اس کا حقیقی جواب یہ ہے جو میں اکثر اپنی سوال و جواب کی مجالس میں دیتارہتا ہوں کہ قرآن کریم نے اقتصادیات کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے اور عورت پر نہیں ڈالی۔عورت کو مال کمانے کے حق سے محروم نہیں فرمایا لیکن جو مال عورت خود کماتی ہے ، وہ اس کی ذاتی ملکیت ہے وہ نہ خاوند اُس سے مطالبہ کر سکتا ہے، نہ اس کو مجبور کر سکتا ہے کہ اپنے گھر پر وہ خرچ کرے۔وہ مالک ہے چاہے تو اس کو پھینک دے، اپنے بھائیوں کو دے، بہنوں کو دے، جو چاہے کرے لیکن خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں۔خاوند کا مرنے کے بعد حق ہوتا ہے اُس سے پہلے نہیں۔یعنی عورت اگر فوت ہو جائے تب حق ہو گا لیکن جہاں تک روز مرہ کی زندگی کا تعلق ہے خاوند پر فرض ہے کہ وہ عورت کے تمام اخراجات برداشت کرے۔چنانچہ قرآن کریم نے جہاں مرد کو قوام فرمایا ہے اور ایک گونہ فضیلت کا ذکر فرمایا ہے بعض لوگ اس پر بھی اعتراض کرتے ہیں تو میں اُن کو سمجھاتا ہوں کہ وہیں اس کے ساتھ وجہ بھی بیان فرما دی کہ جو شخص خرچ کرنے والا ہے، جو گھر کے اخراجات چلانے والا ہے، یا اقتصادی نظام کو چلانے والا ہے خواہ وہ شخص ہو خواہ وہ حکومت ہو اُس کو ایک قسم کی فضیلت طبعی طور پر حاصل ہو جاتی ہے۔پس وہ مرد جو گھروں پر خرچ نہیں کرتے اور عورت کو تنگی دیتے ہیں وہ اس فضیلت سے محروم ہیں کیونکہ قرآن کریم نے بڑی کھول کر وجہ بیان فرما دی ہے کہ کیوں تمہیں ایک قسم کی فضیلت حاصل ہے۔اور جو مرد اپنی بیویوں کو مجبور کرتے