اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 167
حضرت خلیفتہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۷ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء ہیں کہ اپنی کمائی کو ضرور ہمارے گھروں پر خرچ کر دور نہ ہم بدمزاجی سے تمہاری زندگی تنگ کر دیں گے وہ سراسر اسلام کی تعلیم کے خلاف ایسا کرتے ہیں۔پس جب عورت پر اقتصادی نظام کو چلانے کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی اور حق دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو کمائے اس صورت میں اس کو نصف حصہ دینا اُس کی ضرورت سے زیادہ تو ہوسکتا ہے کم قرار نہیں دیا جا سکتا اور لازماً جب مرد پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے تو اس کو ورثے میں کچھ زیادہ ملنا چاہئے۔پس زیادہ تو دیا گیا ہے یہ تو شاید آپ کہہ سکتے ہیں کہ عورت کو نسبتا زیادہ دے دیا گیا ہے لیکن ہرگز یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ عورت کو نسبتا کم دیا گیا ہے۔ورثے کے سلسلے میں ایک اور بات ماں کے ضمن میں بیان کرنی چاہتا تھا ، شاید کی ہے یا نہیں ، مجھے اس قت یاد نہیں ، مگر ماں کو بھی خدا تعالیٰ نے حصہ دار قرار دیا ہے اور خاوند کے ورثے میں بیوی کو بھی حصہ دار قرار دیا ہے اور یہ نسبت ایک اور دو کی ہر جگہ اُسی طرح قائم رکھی ہے اور آپ دنیا کے مذاہب کا جائزہ لے کے دیکھیں، کہیں قانون کے طور پر عورت کے حقوق اس طرح قائم نہیں کئے گئے۔اب اس مضمون کو سمجھنے کے بعد آپ جب عرب کے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو آپ حیران رہ جائیں گی کہ اسلام نے کتنے عظیم الشان انقلابی فیصلے فرمائے ہیں۔عورت نہ صرف عرب دنیا میں ، اُس زمانے میں ورثے سے محروم تھی بلکہ خود ورثہ بھی جاتی تھی اور ورثے میں بانٹی جاتی تھی۔یہاں تک کہ ایک مرحوم کی بیوہ اُس کی اولا د کا ورثہ کبھی جاتی تھی اور ساری عرب دنیا میں یہ ظالمانہ رواج قائم تھا۔اسی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے اپنی ایک نظم میں جہاں عورتوں کو آنحضرت ﷺ کے احسانات یاد دلائے وہاں یہ ذکر بھی فرمایا اور دوسری زیادتیاں جو عورت پر ہوا کرتی تھیں ان کا بھی ذکر فرمایا۔آپ مھتی ہیں: لکھتی ہیں رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیوار میں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خوں جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی یوں ماں تیری گھبراتی تھی عورت ہونا تھی سخت خطا پھر تجھ پر سارے جبر روا یہ جرم نہ بخشا جاتا تھا تا مرگ سزائیں پاتی تھی گویا تو کنکر پتھر تھی احساس نہ تھا، جذبات نہ تھے