اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 165

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۵ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء نہیں ہے لیکن میں مختصراً آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ عورت کے حقوق کی طلاق کے معاملہ میں ایسی حیرت انگیز حفاظت فرمائی گئی ہے اور اس تفصیل سے اُن کو بیان کیا گیا ہے کہ جب میں نے دیگر مذاہب کا جائزہ لیا تا کہ موازنہ کرسکوں تو میں حیران رہ گیا کہ وہاں یا تو ذکر ہی نہیں ملتا یا اتنا مختصر اشارۃ ذکر ملتا ہے کہ اُس سے کسی حق کی تعیین ہی نہیں ہوتی۔قرآن کریم نے یہاں تک فرمایا کہ اگر شادی ہو اور حق مہر مقرر ہو چکا ہو لیکن رخصتانہ سے پہلے طلاق ہو جائے تو آدھا حق مہر پھر بھی ادا کر و۔اس حد تک بار یکی میں گیا ہے قرآن کریم کہ فرمایا کہ اگر حق مہر نہ بھی مقرر ہوا ہو اور رخصتانہ بھی نہ ہوا ہو اور طلاق ہو جائے تو اس صورت میں احسان کا سلوک کرو اور کچھ نہ کچھ ضروران عورتوں کو دو، جو تمہارے نام کے ساتھ ایک دفعہ منسوب ہو چکی ہیں۔پھر فرمایا کہ اگر تم ان لوگوں کو طلاق سے پہلے ڈھیروں مال بھی دے چکے ہو تو یعنی اموال کے پہاڑ اُن کے سپر د کر چکے ہو تو تمہارا کوئی حق نہیں کہ طلاق کے بعد اس میں سے ایک پیسہ بھی واپس لو۔اس قسم کی تعلیم اتنی تفصیلی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور اُس ظلم کو دیکھ کر بھی حیران ہوتا ہے کہ جب اسلام کو مطعون کیا جاتا ہے کہ اس نے عورت کے حقوق کو مسخ کیا ہے، عورت کے حقوق کو پامال کیا ہے۔ایک ایسا گزرے ہوئے زمانوں کا مذہب ہے جس نے عورت کو ایک باندی کے طور پر حقوق سے محروم ایک شے کے طور پر پیش کیا ہے، ہرگز ایسی کوئی بات نہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مذاہب میں تو مقابلہ کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جہاں تک معاشروں کا تعلق ہے کسی معاشرے میں طلاق کے متعلق ایسے عمدہ ایسے پاکیزہ قوانین نہیں ہیں جیسا کہ اسلام میں ملتے ہیں اور اگر ان کا تفصیل سے قو میں مطالعہ کریں تو اس سے بہت حد تک استفادہ کر سکتی ہیں اور دنیا کا معاشرہ سدھر سکتا ہے۔عورت کے حقوق کے سلسلے میں ورثے کا مضمون بھی بہت ہی دلچسپی کا حقدار ہے کیونکہ ساری دنیا کے مذاہب میں ورثے کے معاملے میں یا تو عورت کا کہیں ذکر ہی نہیں ملتا یا ذکر ملتا ہے تو محرومی کی صورت میں اور وہ مذہب جو اسلام کے قریب ترین ہے یعنی یہودی مذہب اور اس کے بعد عیسائیت اُن میں جہاں ورثے کی تعلیم ملاتی ہے اس شرط کے ساتھ عورت کو وارث قرار دیا گیا ہے کہ اُس کا کوئی بھائی نہ ہو۔اگر عورت کا یعنی فوت ہونے والی عورت کی بیٹیاں ہوں یا فوت ہونے والے باپ کی صرف بیٹیاں ہوں تب اُس عورت کو کچھ ور شپ مل سکتا ہے لیکن باپ کے بھائیوں کے ساتھ وہ شریک قرار دی گئی ہے اس کے بغیر نہیں اور باقی حالات میں واضح طور پر یہ علیم ہے کہ تمام جائیداد بیٹوں کو ملے گی عورت کو کچھ نہیں ملے گا۔اس کے باوجود عجیب ظلم ہے کہ اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے عورت کے