اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 131
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۳۱ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ جب تمہارے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی بڑھاپے کو پہنچ جائیں فَلَا تَقُل لَّهُمَا اُف تو ان کو اُف تک نہیں کہنا۔وَلَا تَنْهَرْهُمَا اور ڈانٹنے کا تو سوال ہی کوئی نہیں۔یہاں ان کو ڈانٹنا نہیں غلط ترجمہ ہوگا کیونکہ جب اُف نہیں کہنے دیا تو ڈانٹنے کا پھر 66 کیا سوال ہے۔تو محاورہ اس کا ترجمہ یہ ہو گا ” اُن کو اُف تک نہیں کہنا۔ڈانٹنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔“ وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا بلکہ ان سے تم تکریم کی بات کیا کرو۔قول کریم کہتے ہیں بہت ہی ملاطفت اور نرمی اور احسان کا قول۔اس لئے فرمایا کہ صرف منفی تعلیم نہیں ہے کہ تم نے اُف نہیں کہنا اور تمہارا حق ادا ہو گیا بلکہ جب بھی بات کرنی ہے نہایت عزت اور احترام کے ساتھ بات کرنی ہے۔اب آپ دیکھئے تعلیمات کو تو الگ چھوڑیئے ، دنیا کے افق پر نظر دوڑا کر دیکھئے ، کہ مرد اور عورت دونوں ہی دیکھئے۔ماں باپ کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے دنیا میں۔بڑھاپا آیا اور ماں باپ قصہ ماضی بن گئے۔ہمارے معاشرے میں جہاں اکٹھے رہتے ہیں۔وہاں میں نے ایسی بہوئیں بھی دیکھی ہیں جو سارا سارا دن کوستی رہتی ہیں ساس کی موجودگی کو کہ عذاب پڑا ہوا ہے۔زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ہم تو دونوں اکٹھے کہیں سیر پہ بھی نہیں جا سکتے۔ہر وقت ساس سر پہ چڑھی ہوئی ہے اور وہ بھی ایسی وہمی کہ ذرا دیر ہو جائے تو دورے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں کہ ابھی تک آئے کیوں نہیں۔غرضیکہ تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی لیکن بہو تو بہو ہے بیٹے برداشت نہیں کرتے پھر خود اپنی ماؤں کو بھجوا دیتے ہیں دوسروں کے گھر۔اور یہ تو اُس معاشرے کا حال ہے جہاں مشرق میں عورت کا ایک خاص مقام ، ماں اور باپ کا ایک خاص مقام ہے۔لیکن مغرب میں آکر دیکھیں تو نہایت ہی دردناک نظارے ملتے ہیں۔اُدھر ایک خاص عمر کو، ماں باپ پہنچے، ادھر رشتے ٹوٹ گئے اور قطع تعلق ہو گئے بعض جگہ سال میں ایک دفعہ بیٹوں کا آجانا اتنی نعمت سمجھی جاتی ہے کہ ماں باپ ان کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتے۔آپ نے بڑا احسان کیا ہے۔بہت ہی پیارا بچہ ہے، کتنا فرمانبردار ہے۔سال میں ایک دفعہ مجھے ملنے کے لئے آیا ہے اور چار پیسے کا تحفہ بھی لے آیا ہے۔ہسپتالوں میں مرجاتے ہیں، دکھوں میں مبتلا رہ کر تنہائی سے تنگ آکر خود کشیاں کر لیتے ہیں لیکن بچوں کو خیال نہیں آتا کہ اُن کا کوئی حق ہے۔قرآن کریم نے نہ صرف حق قائم فرمایا بلکہ اس طریق پر قائم فرمایا کہ انسان میں ذرا بھی شرافت ہو تو قرآن کریم کی ان آیات کو پڑھ کر وہ اُس حق کا احساس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔فرمایا: