اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 132
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۳۲ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسَنًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِضْلُهُ ثَلُثُوْنَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ وَاَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي * إنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (الاحقاف : ۱۶) ہم نے انسان کو وصیت کی ہے۔نصیحت اور وصیت میں فرق ہے۔نصیحت تو عام نصیحت کو کہا جاتا ہے لیکن وصیت اُس نصیحت کو کہتے ہیں جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔وہ قانون بن جاتی ہے۔تو فرمایا ہم نے انسان کو بڑی قومی نصیحت کی ہے جسے ٹالنے کا ہم اُسے اختیار نہیں دیتے۔بِوَالِدَيْهِ اِحْسُنَّا کہ اپنے ماں باپ دونوں ہی سے احسان کا سلوک کرو۔پھر باپ کا ذکر دیکھیں کیسے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔فرما یا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وہ یادر کھے کہ اس کی ماں نے کس طرح اسے کتنی تکلیفیں اٹھا کر اپنے پیٹ میں اُٹھائے رکھا۔ووَضَعَتْهُ كُرْهًا اور جب اس کی ولادت ہوئی اور اس سے فارغ ہوئی وہ وقت بھی اس کے لئے بڑا عذاب کا وقت تھا۔بڑی تکلیف کا وقت تھا۔وَحَمْلُهُ وَفِضلُهُ ثَلُثُونَ شَهْرًا اور مدت اگر وہ ساری شمار کرے تو ابھی بھی تم نے اپنی ماؤں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔باہر آکر ان کا دودھ پیتے ہو اور اگر حمل کا زمانہ اور دودھ کا زمانہ ملا دیا جائے تو یہ تمیں (۳۰) مہینے بنتے ہیں۔پھر جو شریف النفس لوگ ہیں وہ اس بات کو کبھی نہیں بھلاتے۔اتنا بڑا احسان ہے کہ لڑکی ہویا لڑکا اس کو ہمیشہ ساری زندگی اس احسان کو نہیں بھلانا چاہئے۔چنانچہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کو دیکھئے کہ پھر اس کے بعد اس کے بچپن کے شکریے اور جوانی کے شکریوں کو چھوڑ دیتا ہے فرمایا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً کہ پھر وہ جب پوری پختہ عمر کو پہنچ جاتا ہے جب انسان ماں باپ کے خیال سے بھی آزاد ہو جاتا ہے، ان کی احتیاط سے آزاد ہو جاتا ہے، فرمایا یہاں تک کہ پھر وہ پوری عمر کو پہنچ گیا باغ اَرْبَعِينَ سَنَةً چالیس (۴۰) سال تک پہنچ گیا تب اس نے دعا کی قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَى