اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 130
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۳۰ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء تک تمہارا شوہر تھا۔اس سے تمہیں اولاد ہو چکی ہے اس لئے کچھ دل میں رحم کھاؤ۔کچھ اس پر رحم کرو۔بریرہ نے پلٹ کر یہ عرض کیا انا مُرُونِي بِذلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ( بخاری کتاب الطلاق۔باب شفاعة النبي في زوج بريرة + ابوداؤد کتاب الطلاق ) آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں میں شفاعت کر رہا ہوں۔مگر اُس نے رسول اکرم کی شفاعت کا انکار کر دیا۔لیکن عورت کا حق ضرور آنحضور ﷺ نے ہمیشہ کے لئے قائم کر دیا اور یہ مثال قائم کر دی کہ خدا نے جو حقوق دیئے ہیں ان میں رسول بھی کبھی دخل نہیں دے گا۔کون ہے دنیا میں جو اس اسلام کے ہوتے ہوئے عورت کو کسی حق سے محروم کر سکتا ہے؟ عورت بحیثیت ماں یہ ایک ایسا عظیم الشان مقام ہے جو قرآن کریم اور آنحضرت کی احادیث ، آپ کے ارشادات عورت کو دیتے ہیں کہ پھر آپ نظر دوڑا کر دیکھئے سارے دنیا کے افق پر ، آپ کو عشر عشیر بھی اس تعلیم کا کسی اور مذہب کسی اور معاشرے میں دکھائی نہیں دے گا۔ماں کے لحاظ سے عورت کو قرآن کریم نے اس بلند مقام پر پہنچا دیا ہے کہ عقل دنگ رہتی ہے۔عورت کو ماں کے لحاظ سے دیکھتے ہوئے پگڑی ہلتی ہے ، جیسے محاورے میں کہا جاتا ہے۔قرآن کریم میں ماں اور باپ دونوں کے مقام اور منصب کو ایک بہت ہی بلند مرتبہ عطا فرمایا، لیکن جوں جوں آپ آگے بڑھیں گے آپ کو معلوم ہوگا کہ عورت کا خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم میں اس طرح ذکر ملتا ہے کہ باپ کے حق کا اس طرح خصوصیت سے ذکر نہیں ملتا۔اور احادیث نبویہ میں بھی ماں اور باپ دونوں کے حقوق کی باتیں کرتے کرتے پھر ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں عورت تنہا رہ جاتی ہے اس مقام میں ، اور باپ کا پھر وہاں ذکر ملنا بند ہو جاتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلْهُمَا فَلَا تَقُلُ نَّهُمَا أُفِّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرات (بنی اسرائیل : ۲۴-۲۵)