اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 129

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۲۹ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء ہے میں تو بالکل پسند نہیں کرتی۔بہت ہی کوئی نفیس اور پاک طبیعت کی بیٹی تھی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تو آزاد ہے۔کوئی تجھ پر جبر نہیں ہو سکتا جو چاہے کرو۔اس کی نفاست طبع دیکھیں۔عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اپنے باپ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی اس سے بھی میراتعلق ہے۔میں تو اس لئے حاضر ہوئی تھی کہ ہمیشہ کیلئے عورت کا حق قائم کر کے دکھاؤں تا کہ دنیا پر یہ ثابت ہو کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کو اس کی مرضی کے خلاف رخصت نہیں کر سکتا۔اب جب آپ نے حق قائم فرما دیا تو خواہ مجھے تکلیف پہنچے، میں باپ کی خاطر اس قربانی کیلئے تیار ہوں۔(مسند احمد جلد ۲ ص ۱۳۶۔ابن ماجہ ابواب النکاح باب من زوج ابنتہ وہی کا رھتہ ) چنانچہ ایک اور روایت ہے بخاری میں (بخاری کتاب النکاح) جس سے پتہ چلا کہ آنحضرت علی نے اصولاً بھی عورت کو خواہ وہ بیوہ ہو یا مطلقہ ہو یا دوشیزہ ہو نکاح کے متعلق یہ اختیار دیا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا کوئی نکاح کہیں نہیں کروایا جا سکتا۔خصوصیت کے ساتھ یتامی کے متعلق آپ نے فرمایا: لا تَنْكِحُوا الْيَتَامَى حَتَّى تَسْتَأْ مِرُوهُنَّ۔(دار قطنی - کتاب النکاح) یتیم لڑکیوں کے متعلق خاص طور پر خیال رکھنا کہ ان کے نکاح ان کی مرضی کے بغیر نہ کرنا۔آنحضرت ﷺ اس حق کو اس شدت سے نافذ کروانا چاہتے تھے کہ خود بھی باوجود اس کے کہ ما مور تھے۔اگر کسی کو حکم دینا چاہتے تو دے سکتے تھے لیکن آپ اس سے احتراز فرماتے تھے بلکہ ایک موقعہ پر ایک خاتون نے واضح طور پر یہ وضاحت کروائی کہ "یا رسول اللہ احکم دے رہے ہیں یا مشورہ ہے۔چنانچہ وہ روایت بڑی دلچسپ ہے۔ایک لڑکی کا نکاح جبکہ وہ ابھی غلام تھی ایک شخص مغیث ہوا۔اب مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی لونڈی آزاد ہو جائے تو اس کا حق ہے پھر کہ غلامی کی حالت کی کی ہوئی شادی کو قائم رکھے یا توڑ دے۔اب بریرہ کو یہ حق مل گیا وہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ یا رسول اللہ! میرا حق دلوائیے اب۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔مغیث کو کہا کہ اس کو چھوڑ دو۔اس کو اتنی محبت تھی کہ وہ بے اختیار رونے لگا اور گریہ وزاری کرنے لگا اور رسول اللہ ﷺ سے التجا کی ، پیچھے پیچھے دوڑا ، روتا ہوا پیچھے پیچھے دوڑا بریرہ کے، کہ آجاؤ میرے پاس واپس، میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔رسول اللہ ﷺ کو یہ منظر دیکھ کر اس پر اتنا رحم آیا کہ آپ نے بریرہ سے کہا کہ بریرہ خدا سے ڈرو۔وہ کل