اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 128

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۲۸ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء ہیں۔بعض معاشروں میں عورت کو نعوذ باللہ من ذلک اتنا حقیر سمجھا جاتا ہے کہ جب کسی کے بیٹیاں پیدا ہوں تو وہ شرم سے منہ چھپاتا پھرتا ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر فرمایا۔ایسا شخص آزمائش میں ڈالا گیا۔اگر وہ خدا کی رضا کی خاطر دنیا کی تذلیل کی کچھ بھی پرواہ نہ کرے اور ہمت اور حوصلہ دکھائے اور ان کی تربیت میں اور ان سے حسن سلوک میں کمی نہ کرے تو وہ یقینا جنت کا مستحق ہوگا کیونکہ اس کے حسن سلوک میں باپ اور بیٹی کی محبت کارفرما نہیں بلکہ خدا کی محبت کارفرما ہے۔اسی طرح اور کئی قسم کی آزمائشیں ہیں جو بیٹیوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔تو حضرت عائشہ صدیقہ نے نہ صرف یہ الجھن دور کر دی کہ تین بیٹیوں کا کیوں ذکر ملتا ہے اور دو بیٹیوں کا کیوں ذکر ملتا ہے بلکہ یہ بھی بیان کر دیا کہ اس میں نیکی ہے کیا؟ جہاں تک عورت کے بیاہ شادی کے اختیار کا تعلق ہے۔اسلام دنیا میں وہ واحد مذہب ہے جس نے اس اختیار کو نہ صرف قائم فرمایا بلکہ آج سے چودہ سوسال پہلے قائم فرمایا جبکہ ساری دنیا کے معاشروں میں سوائے اُن معاشروں کے جہاں عورت تاریخی طور پر ویسے ہی غالب تھی باقی تمام معاشروں میں آپ کو کنواری بچیوں کے اس اختیار کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ وہ اپنے خاوند کے چناؤ میں خود فیصلہ کر سکیں۔صرف اسلام ہے جس نے عورت کے اس حق کو قائم فرمایا اور اس زمانہ میں قائم فرمایا جب که عورت کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک ہوتا تھا۔کہ زندہ درگور بھی کر دی جاتی تھی۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔آپ بیان کرتے ہیں اَنْ جَارِيَةً بِكُراً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ آبَاهَا زَوْجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم۔(ابوداؤد۔باب فی البکریز وجھا ابوها ولا ئیستا ئمرها ) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی آنحضرت ﷺ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے اور یہ اس نکاح کو پسند نہیں کرتی۔آنحضرت علی نے اختیار دیا کہ چاہے تو نکاح کو قائم رکھ، چاہے تو نہ رکھ۔ایک اور بڑی دلچسپ روایت ملتی ہے کہ ایک صاحب نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک مالدار شخص سے کر دیا جس کو لڑ کی نا پسند کرتی تھی۔وہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں شکایت لے کر حاضر ہوئی اور کہا کہ یا رسول اللہ ! ایک تو مجھے آدمی پسند نہیں دوسرے میرے باپ کو دیکھیں کہ مال کی خاطر نکاح کر رہا