اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 125
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۲۵ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبَّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ اس نے خدا تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق کی اور اس کی کتب کی تصدیق کی وَكَانَتْ مِنَ القنتين اور وہ بہت ہی دعائیں کرنے والی ، بہت ہی عاجزی اختیار کرنے والی عورت تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود نے اس مضمون کو اپنی ذات کے اوپر صادق کر کے دکھایا، اطلاق کر کے دکھایا۔آپ نے لکھا کہ مجھ پر ایک حالت تھی جو میں مریم کی طرح تھا اور پھر اس مریمی حالت سے میرے اندر سے عیسی کا بچہ پیدا ہوا اور میں ابن مریم بن گیا۔اس مضمون کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں مختلف مخالف علماء نے حضرت مسیح موعود کو سخت تضحیک کا نشانہ بنایا۔بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کیں اور بعض بڑے بڑے گندے فقرے چست کئے کہ اچھا جب آپ مریم تھیں تو کیا ہوا تھا، کس طرح آپ کی یہ کیفیت ہوئی تھی ، کس طرح وہ کیفیت طاری ہوئی ، بچہ پھر کس طرح پیدا ہوا اور یہ اور وہ ، نہایت بے ہودہ اور سفاکانہ اور ظالمانہ باتیں انہوں نے کیں اسلئے کہ قرآن کریم پر ان کی نظر نہیں تھی۔ایک دفعہ ایک مولوی صاحب کراچی کے وفد کے ساتھ ربوہ تشریف لائے ہوئے تھے سوال و جواب کی مجلس جب میں لگایا کرتا تھا ، پرانی بات ہے، وہاں کراچی کے کوئی، میرا خیال ہے، ڈیڑھ دو ڈھائی سو کے قریب غیر احمدی لوگ تھے بہت بڑا قافلہ تھا۔جب مولوی صاحب نے دیکھا کہ ان پر اثر ہورہا ہے تو اُس نے یہی شرارت شروع کر دی کہ اچھا مرزا صاحب باقی باتیں چھوڑیں مجھے یہ تو بتائیں کہ مرزا صاحب جو جماعت احمدیہ کے بانی ہیں وہ جب مریم بنے تھے تو کس طرح بنے تھے، عورتوں والی کیا باتیں ان میں پیدا ہوئی تھیں اور پھر بچہ کس طرح پیدا ہوا تھا ذرا وہ قصہ سنائیے۔میں نے کہا مولوی صاحب مجھے بڑا افسوس ہوا ہے آپ کو دیکھ کر کہ آپ کو قرآن کا ہی علم نہیں اور آپ اعتراض کر رہے ہیں۔کیا آپ نے سورۃ تحریم کی یہ آیتیں نہیں پڑھیں، کیا آپ کا ایمان نہیں ہے قرآن کریم پر، قرآن کریم نے آپ کو اختیار نہیں دیا، قرآن کریم نے لازم کر دیا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو ان دو عورتوں کی مثالیں پکڑنا لازم ہے۔پس اگر آپ مریم نہیں بن سکتے تو فرعون کی بیوی تو بن کے دکھائیں۔اگر آپ فرعون کی بیوی بنیں گے تو میں آپ سے پوچھوں گا کہ آپ کے فرعون کے ساتھ کیسے تعلقات تھے اور کیا کیا ماجرا گزرا۔پھر آپ کیا جواب دیں گے۔آپ کے لئے راہ فرار نہیں رہے گی سوائے اس کے کہ کہیں کہ میں مؤمن نہیں ہوں۔ورنہ لازماً آپ کو حضرت مسیح موعود پر جو حملے کئے ہیں وہ واپس لینے پڑیں گے۔چنانچہ جب میں نے یہ بات بیان کی تو انہوں نے بار بار کہا کہ بس کریں کافی ہو گئی ہے میرے