اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 124

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۲۴ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء تھا۔اس نے نہ صرف یہ کہ اپنے ایمان کی ان انتہائی مخالفانہ حالات میں حفاظت کی بلکہ اس حفاظت کا طریق بھی خدا تعالیٰ نے بتادیا کہ کیسے حفاظت کی۔فرمایا وہ اس طرح دعائیں کیا کرتی تھی اور ظالم کے ظلم سے تم نہیں بچ سکتے جب تک خدا کے سہارے نہ مانگو خدا کی طرف اپنی مدد اور التجا کے ہاتھ نہ بڑھاؤ۔پس فرعون سے مثال پکڑو خواہ کتنے ہی بڑے ظلم ہوں کیسا ہی بڑا ظالم اور جابر بادشاہ یا آمرتم پر مسلط ہو ، ادنی تقاضا تم سے یہ ہے کہ کم سے کم فرعون کی بیوی تو بن کے دکھاؤ۔اس سے بڑھ کر تم پر کیا ابتلاء آ سکتا ہے۔جس طریق سے جس حکمت سے اس نے اپنے ایمان کی حفاظت کی ہے اس طریق کو تم بھی اختیار کرو۔تم بھی اپنے خدا سے دعائیں مانگو کیونکہ وہ ہر جابر اور ہر غالب اور ہر آمر سے بڑھ کر طاقتور ہے اور تمہیں خواہ کیسی بھی مظلوم اور کمزور کیوں نہ ہو، ہر ظالم کے ظلم سے نجات بخش سکتا ہے۔پھر ایک اور مثال دی۔ایک ادنی پہلو کی مثال ہے، ایک نہایت ہی اعلیٰ پہلو کی مثال ہے۔ادنی پہلو کی مثال، مثال کے ادنیٰ ہونے کے لحاظ سے نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کے کم سے کم تقاضوں کے لحاظ سے، میں اسے ادنی کہہ رہا ہوں ورنہ اپنے مضمون میں اس سے بہتر کوئی اور مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔دوسری مثال ہے ایک اور عظیم الشان روحانی مضمون اس میں بیان ہوا۔فرمایا: وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا (التحريم:۱۳) اور مریم بنت عمران کو دیکھو کہ اس نے کیسی اپنی عصمت کی حفاظت کی فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ روحِنَا ہم نے اس میں خود اپنی روح پھونکی۔یادرکھئے یہاں فیہ کا لفظ استعمال ہوا ہے فِيهَا کا نہیں۔یعنی ہم نے مریم میں روح پھونکی یہ نہیں فرمایا۔فرمایا اُس میں روح پھونکی مرد کی طرف اشارہ ہے۔بعض مفسرین اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ فیہ سے مراد وہ بچہ ہے جو مریم کے پیٹ میں تھا۔لیکن دوسری جگہ اسی مضمون کو فیها کہہ کر بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس مریم میں اپنی روح پھونکی ، اُس عورت میں اپنی روح پھونکی۔تو یہاں فرق کیوں ہے؟ فرق اس لئے ہے کہ یہاں مومنوں کی مثال دی گئی ہے اور مریم کی بات کرتے کرتے مومن کو ضمیر کا مرجع بنا دیا گیا کہ وہ مومن جو مریم کی شان اختیار کر لیتا ہے اس لئے کہ وہ مریمی شان رکھتا ہے، اس میں ہم اپنی روح پھونکتے ہیں۔تو ہر وہ مومن جو اپنے نفس کی حفاظت کرتے ہوئے ایک ایسی پاکیزگی اختیار کر جاتا ہے کہ خدا کے پیار کی نظر اس پاکیزگی پہ پڑتی ہے اس سے جو اسے روحانی اولا د نصیب ہوتی ہے۔اس میں جو روح پھونکی جاتی ہے وہ مریم کی مثال کی متابعت کرنے کے طفیل ملتی ہے۔چنانچہ فرمایا :