اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 99

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۹۹ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء تین مردوں نے اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئے تین تین اور عورتوں سے شادی کی اور ان تین تین عورتوں نے پھر تین تین اور مردوں سے شادی کی اور پھر ان مردوں نے تین تین اور عورتوں سے شادی کی۔سارا ملک ایک شادی شدہ خاندان بن جائے اور جگہ نہ رہے۔دوسرے ملکوں سے پھر بیویاں اور خاوند لانے پڑیں اور پھر بچے کس کے ہوں گے؟ طلاق ہوگی تو ذمہ دار کون قرار دیا جائے گا۔نان نفقہ کس پر ہوگا ؟ کس طرح پھر طلاق کے جھگڑے طے ہوں گے اور جائیدادیں بانٹی جائیں گی۔ایسا احمقانہ سوال ہے کہ اس کا کوئی حل سوال کرنے والا بھی پیش نہیں کر سکتا اس لئے اسلام کی تعلیم سے مفر نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی تعلیم جذبات پر نہیں فطرت انسانی پر مبنی ہے اور ضروریات انسانی پر مبنی ہے اور ہر زمانہ کے لئے ہے۔امن کے زمانہ کے لئے ہے، جنگ کے زمانہ کے لئے بھی ہے۔پس وہ تمام احتیاطیں اختیار کرنے کے بعد جس کے نتیجہ میں ظلم سے مردوں کو روکا جائے خدا تعالیٰ نے مناسب شرطوں کے ساتھ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی اور اسے عمومی قانون نہیں قرار دیا۔اگر عمومی قانون اسے سمجھا جائے تو پھر نعوذ باللہ من ذالک ، خدا تعالیٰ کی حکمت کاملہ پر ایک شدید اعتراض وارد ہوتا ہے۔یعنی ایک طرف خدا تعالی گویا یہ تعلیم دے رہا ہے کہ ہر مرد بہتر ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرے۔دو دو، تین تین، چار چار شادیاں کرے اور دوسری طرف قانون ایسا بنایا ہو کہ مرد اور عورتوں کی تعداد تقریباً برابر ہو۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مرد اور عورت کی تعداد تو برابر پیدا ہورہی ہو کم و بیش اور مردوں کو چار چارشادیوں کی اجازت کی تعلیم دی جارہی ہو اس لئے لا زما یہ تعلیم عام نہیں ہے۔انہی حالات سے مخصوص ہے جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور ان شرائط سے پابند ہے جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض ضرورتیں پیش آسکتی ہیں۔صرف جنگ کی ضرورتیں نہیں ہیں۔ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو ذکر فرمایا ہے۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت ہی سے ، آپ کے سامنے پیش کروں گا۔چنانچہ ایک اور شرط قرآن کریم نے یہ عائد فرمائی: وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاء وَلَوْ حَرَصْتُم فَلَا تَمِيلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ (النساء: ۱۳۰) اتنا زور دیا ہے انصاف پر کہ پھر خدا تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سو فیصدی انصاف ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جتنی محبت انسان ایک